تفہیماتِ ربانیّہ — Page 203
طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی۔(عشرہ صفحہ ۵۰) آپ خود نقل کر چکے ہیں لہذا یہ استدلال باطل ہے۔صوفیائے اسلام کا کیا مذہب ہے؟ لکھا ہے :- وَالصُّوْفِيَّةُ يَقُولُونَ إِنَّ لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ الظُّهُورَ فِيمَا يَشَاءُ عَلَى مَا يَشَاءُ وَهُوَ سُبْحَانَهُ فِي حَالٍ ظُهُورِهِ بَاقٍ عَلى إطْلَاقِهِ حَتَّى عَنْ قَيْدِ الْإِطْلَاقِ فَإِنَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَمَتَى ظَهَرَ جَلَّ وَعَلَا فِي صُورَةٍ أُجْرِيَتْ عَلَيْهِ سَبْحَانَهُ أَحْكَامُهَا مِنْ حَيْثُ الظهورِ فَيُوْصَفُ عَزَّ عَبْدُهُ عِنْدَهُمْ بِالْجُلُوسِ وَنَحْوِهِ مِن تِلْكَ الْحَيْثِيَّةِ - 66 ( تفسیر روح المعانی جلد ۴ صفحه ۵۷۳) ترجمہ۔صوفیاء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس پر اور جس صورت میں چاہے ظہور کر سکتا ہے مگر وہ اس حالت میں بھی مطلق ہو گا تی کہ اطلاق کی قید سے بھی بالا ہوگا اور جب وہ کسی صورت میں ظہور فرمائے تو اس پر اس کے مطابق احکام جاری ہوں گے۔اس بناء پر ان کے نزدیک حیثیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹھنے وغیرہ کا لفظ بول سکتے ہیں۔“ ز صوفی شنوگر زمن نشنوی پس۔سے ہاں ” میز کرسی ، گاؤ تکیہ اور کچہری“ کے الفاظ حضرت مسیح موعود کے نہیں بلکہ مکذب پٹیالوی نے خود اختراع کئے ہیں۔شاید یہ الفاظ اسلئے لکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا لکھنا ثابت ہے اور لکھنے کیلئے میز ، کرسی وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ع بریں عقل و دانش باید گریست! شیخ پٹیالوی اور اس کے ہم رفیقو اسنو ! تم بھی خدا کے عرش کے قائل ہو اور تم یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ خدا عرش پر بیٹھا ہے اور عرش کجاوے کی طرح چلاتا ہے۔اِنَّهُ لِيَيْطُ بِهِ آطِيْطَ الرَّجُلِ بِالرَّاكِب ( سنن ابی داؤد - رساله الجيوش الاسلامیہ لابن تیمیہ صفحہ ۳۰) پھر تم یہ بھی مانتے ہو کہ ہر شب کے آخری حصہ میں خدا تعالیٰ دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا (ترمذی جلد ۱ صفحه ۱۵۹ ابواب صلوة الليل ) ہے۔تمہارے نزدیک خدا کا ہنسنا بھی ممکن ہے۔پھر تم یہ بی اعتقاد رکھتے ہوکہ قیامت الے مسلم جلد ا صفحه ۹۲ باب اثبات الشفاعة - ١٢ 203