تفہیماتِ ربانیّہ — Page 191
ہے اور اس کی تو حید دنیا پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کام کرو۔“ (کشتی نوح صفحه ۱۱) (۲) خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو۔‘ ( الوصیت صفحہ ۹) (۳) ”نجات دو امروں پر موقوف ہے۔ایک یہ کہ کامل یقین کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جلشانہ کی اس کے دل میں جاگزین ہو کہ جس کے استیلاء اور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اس کی راحت جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے۔اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے یہی توحید حقیقی ہے۔“ ( حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۶) (۴) خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے ایک بندہ کو، جو یہی لکھنے والا ہے، بھیجا۔تا اس نبی ( حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سچائی اور عظمت کی گواہی دے اور خدا کی توحید اور تقدیس کو دنیا میں پھیلا دے۔“ (نسیم دعوت صفحہ ۴) ران اقتباسات سے عیاں ہے کہ حضور کا مقصد اور مشن توحید الہی کی اشاعت ہی تھا اور یہی آپ نے جماعت احمدیہ کو تلقین فرمائی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جماعت احمد یہ ان تمام الزامات سے براءت کا اعلان کرتی ہے جو اسکے مخالف محض مجتبال کو متنفر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔مثلاً خدائی کا دعوی ، خدا کا بیٹا ہونے کا دعوی ، خدا کے برابر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضلیت کا ادعاء وغیرہ وغیرہ تمام اتہامات ہیں جو مخالف حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب کرتے ہیں۔مخالفین کا یہ رویہ اس بات کا زبر دست ثبوت ہے کہ جماعت احمدیہ کے اصل مسلمات پر ان کو اعتراض کی تاب نہیں۔تب ہی تو اپنے پاس سے ایک خیال گھٹڑ کر اس پر اعتراض کر دیتے ہیں۔بہر حال انتَ مِنَى بِمَنْزَلَةِ توحیدی “ کی حقیقت ظاہر ہے۔باقی یہ کہ حضرت مرزا صاحب کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔یہ ایک لطیف استعارہ 191