تفہیماتِ ربانیّہ — Page 184
(۱) یقیناً یاد رکھو کہ خدا کے ارادہ کو روکنے والا کوئی نہیں۔“ (کشتی نوح صفحہ ۸) (۲) خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ (کشتی نوح صفحہ ۳) پھر آپ کے الہامات میں ہے اللہ غالب على كُلِّ شيئ - ان ربَّك فعّال لما يريد (البشر کی جلد ۲ صفحہ ۱۰۹) کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے۔اور وہ جو ارادہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے۔یعنی کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔غرض الہام أُرِيدُ مَا تُرِيدُونَ میں بھی ہرگز ہرگز شرع اسلامی کی مخالفت کا کوئی شنائیہ نہیں پایا جاتا۔اگر ذرا غور کیا جائے تو دراصل یہ وہی مقام ہے جہاں جا کر اللہ تعالیٰ اپنے بندہ سے کہدیتا ہے کہ اب تو جو چاہے کر۔کیونکہ اس حالت میں اس کا اپنا ارادہ اور مشیت باقی ہی نہیں رہتی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں محض ایک آلہ بن جاتا ہے۔اس کا نطق اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ إِلَّا وَحَى يُوحَى ) اور اس کی حرکت اور اس کا سکون امر ربی “ کے ماتحت ہوتا ہے۔ایسے وقت پر خدا فرماتا ہے اب چونکہ تو ماسوی اللہ سے پورے طور پر کنارہ کش ہو گیا ہے اس لئے اب تیرا ارادہ میرا ارادہ ہے۔چنانچہ اہل بدر کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اعْمَلُوا مَا شِثْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ( مسلم باب فضائل اہل بدر جلد ۲ صفحہ ۳۵۹) کہ اب جو چاہو عمل کرو یعنی اب تمہارا عمل یقیناً یقینا اللہ تعالیٰ کے ماتحت ہی ہوگا تم کسی بدی کا ارتکاب نہیں کرو گے۔شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں :- " مَا آتَى مُحَرَّماً مَنْ هذه صِفَتُهُ فَإِنَّهُ مِمَّنْ قِيْلَ لَهُ اعْمَلُ مَا شِئْتَ فَمَا عَمِلَ إِلَّا مَا أُبِيْعَ لَهُ عَمَلُهُ۔کہ اس مرتبہ کا انسان کوئی بدی نہیں کرتا بلکہ وہی عمل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جائز قرار دیا ہو۔“۔(فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه (۸۸) قرآن مجید میں خضر کا واقعہ سب کو معلوم ہے۔کشتی کو عیب دار بنانے کے فعل کو فَأَرَدْتُ أنْ أعِيْبَهَا “ کے لفظ سے بیان کیا اور قتل غلام پر فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا ربهما ، فرمایا۔لیکن دیوار کے بنانے پر فَاَرَادَ رَبُّكَ “ ارشاد ہوا۔یعنی کشتی کے متعلق فعل کو اپنے ارادہ سے منسوب کیا ہے اور قتل غلام پر ”ہمارا ارادہ ہو “ فرماتے (184)