تفہیماتِ ربانیّہ — Page 162
اگر معترض کو اہل منطق کا مشہور مقولہ "لولا الإِعْتِبَارَاتُ لَبَطَلَتِ الْحِكْمَةُ “ تھا تو اُسے اتنا تو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ زید کو اس کی مختلف حیثیات کے لحاظ سے باپ، بیٹا، بھائی، داماد، خاوند وغیرہ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اسی طرح اگر آنے والے موعود کے جو موعود گل ادیان ہے ان قوموں کے لحاظ سے مسیح، مہدی، کرشن وغیرہ نام رکھے گے تو اس پر شپرہ چشم معاند کیوں آتش در نعل ہو رہے ہیں ؟ سچ ہے پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ جنبہ دار حضرت کرشن سے متعلق اہل اسلام کے دس حوالے بالآخر ہم یہ بھی بتادینا چاہتے ہیں کہ کرشن کے متعلق دوسرے لوگوں کے کیا خیالات ہیں۔چنانچہ ذیل میں وہ حوالجات درج کرتے ہیں :- (۱) حضرت مجد والف ثانی امام ربانی فرماتے ہیں :- در امم سابق که ملاحظه میکند کم بقعہ مے یابد که در انجا بعثت پیغمبرے نشده باشد حتی که در زمین ہند که دور ازیں معاملہ می نماید که نیز می یابد کہ اہلِ پیغمبراں مبعوث شده اند و دعوت بصانع جلشانه فرموده اند و در بعضی از بلاد هند محسوس میگردد که انوار انبیاء علیهم الصلوۃ والتسلیمات در ظلمات شرک در رنگ مشعلها افروخته اند مکتوبات امام ربانی جلد اول - مکتوب ۲۵۹) (۲) مولوی وحید الزمان صاحب نے قرآن مجید کی تفسیر میں لکھا ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ حضرت کرشن علیہ السلام خدا کے ایک برگزیدہ اور راستباز انسان تھے اور وہ اپنے زمانہ میں اپنی قوم کے لئے خدا کی طرف سے نذیر ہو کر آئے تھے کیونکہ قرآن مجید میں ہے وان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ - اس آیت سے یہ صاف نکلتا ہے کہ ہر ملک اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو چکے ہیں۔( تفسیر وحیدی زیر آیت وَانُ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ) (۳) جناب مولوی عبید اللہ صاحب مؤلّف تحفۃ الہند لکھتے ہیں :- (162)