تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 125 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 125

فی الحال نمبر ۲ و ۳ پر معترض نے گفتگو نہیں کی اور ہو بھی کچھ نہیں سکتی کیونکہ دعوت مباہلہ کے مقابلہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے صاف انکار کر دیا تھا ( دیکھو فصل دہم ) اور اعجاز احمدی کی مثل لانے سے وہ بالکل عاجز رہ گئے تھے۔فَوَضَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - ہاں معترض نے نمبر اوّل کے متعلق لکھا ہے کہ مولوی ثناء اللہ ۱۰ار جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیان چلے گئے۔اس نشان کے دو حصے ہیں۔(الف) تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس نہیں آئیں گے۔(ب) اپنی قلم سے کچی پیشگوئیوں کی تصدیق کرنا اُن کے لئے موت ہوگی۔حصہ (ب) کے متعلق بھی معترض خاموش ہے۔باقی حصہ (الف) میں بھی حضرت نے لکھا ہے کہ ” میرے پاس نہیں آئیں گئے کیا مولوی ثناء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس گئے؟ ہر گز نہیں۔وہ تو قادیان کے آریوں کے پاس گئے ، اُن کے پاس ہی ٹھہرے ،حضرت اقدس سے ملے تک نہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھیں آئینہ حق نما صفحہ ۲۹۳ تا ۳۰۶) علاوہ ازیں یادر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالا پیشگوئی ( اعجاز احمدی صفحہ ۳۷) کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ مولوی ثناء اللہ کا محض قادیان آنا ناممکن ہے جیسا کہ ہر سمجھدار انسان پر ظاہر ہے بلکہ اصل حصہ پیشگوئی شق الف میں بھی ” پیشگوئیوں کی پڑتال“ ہے اور مولوی ثناء اللہ نے اس طرف ذرہ بھی تو جہ نہیں کی۔یعنی وہ طریق اختیار نہ کیا جو تحقیق حق کا طریق ہوتا ہے اور وہ کب اس طریق کو اختیار کر سکتے تھے جبکہ انکا خیال ہی یہ تھا کہ :- ” میرے وہاں پہنچتے ہی آپ کی پیشگوئی مندرجہ صفحہ ۱۳۷اعجاز احمدی غلط ہوگئی تھی۔(رسالہ الہامات مرزا صفحه ۱۱۵ حاشیه) اسی کی تقلید میں معترض پٹیالوی نے لکھ دیا کہ ان کا قادیان جانا ہی پیش گوئی کو باطل کرتا ہے۔ناظرین! پیشگوئی کے اصل الفاظ آپ کے سامنے ہیں۔آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ کس قدر عیاری ہے کہ لا تقربوا الصلوة کے متعلق مشہور قصہ کی طرح آدمی ا ٹھیک اسی طرح چند نادان اور بے علم آریوں نے قرآن پاک کے بالمقابل چند غلط سلط عربی فقرات لکھ کر کبد یا کہ قرآن مجید کی بے نظیری کی تحدی باطل ہو گئی۔ارے مولانا اذرا عقل کے ناخن لیجئے۔(مؤلف) 125