تفہیماتِ ربانیّہ — Page 109
میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے آپ مامور نہیں ہوئے یا خدا تعالیٰ نے آپ کو شرف مکالمہ و مخاطبہ نہیں بخشا ؟ ہرگز نہیں! اس قسم کی باتوں سے استدلال کر کے ۶۵ سال عمر ثابت کرنا یقیناً الْفَرِيق يَتَثَبِتُ بِالحَشيش “ یعنی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا، کا مصداق ہے۔جب حضرت نے اپنا سنِ بعثت صاف طور پر ۱۳۹۰ هجری بتادیا (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۹ ) تو پھر ادھر اُدھر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں اس جگہ (ازالہ اوہام میں ) جہاں ان اعداد کا ذکر ہے وہاں صاف لکھا ہے :۔اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الايَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَيْنِ ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا الخ“ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۸۶) پس جب سیاق کلام تیرھویں صدی کے اواخر کے اثبات کے لئے ہو تو محض ۱۳۰۰ کے عدد سے عمر کا اندازہ کرنا کہاں تک درست ہے؟ اور اس ابجد کے ۱۳۰۰ کو محض سن ہجری سے مخصوص کرنا اور بھی عجیب ہے۔کیا وجہ ہے کہ اس ۱۳۰۰ سے مرادسن بعثت نبوی نہ لیا جاوے جو کہ سنِ ہجری سے قریباً دس سال پہلے ہے۔اور اس لحاظ سے اس بیان کی ۲۹ ہجری کے ساتھ پوری مطابقت بھی ہو جاتی ہے۔فتد تر! عمر کے متعلق تو مخالفین کی شہادتیں بھی نہایت صاف ہیں مگر افسوس ان پر جو لھم قُلُوبُ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِھا کے مصداق ہیں۔امر ششم منشی محمد یعقوب صاحب پٹیالوی کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کا بیان اس وقت تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں غلط ہے۔کیونکہ قاضی فضل احمد لدھیانوی کی کتاب کلمہ فضل رحمانی میں لکھا ہے کہ دو قادیان ضلع گورداسپور میں اور ایک ضلع لدھیانہ میں ہے اور ایک میں غلام احمد قریشی نام ایک شخص رہتا تھا۔(ملخصاً حاشیہ صفحہ ۳۸ عشرہ) الجواب - (۱) قاضی فضل احمد جس نے اپنی کتاب ”کلمہ فضل رحمانی“ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خلاف بافراط کذب بیانی کی ہے اس کو بطور گواہ پیش کرنا معترض پٹیالوی کے لئے ہی موزون ہے ع خوب گزرے گی جومل بیٹھیں گے دیوانے دو 109)