تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 89 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 89

ایک اور طرح سے جب انسان مقام فتاء پر پہنچ جاتا ہے تو اس کا فعل خدا کا فعل متصور ہوتا ہے کیونکہ ایسے لوگ در حقیقت اس کے حکم کے بغیر نہیں بولتے اور نہ اس کے حکم کے بدوں حرکت کرتے ہیں۔اس واقعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا روم فرماتے ہیں گفته او گفته الله بود۔گرچه از حلقوم عبد الله بود اس طریق پر اس الہام کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ فرزند نہایت نیک اور کلیۃ رضاء الہی کا پابند ہوگا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَفى (انفال ) اے صحابہ ان کفار کو تم نے نہیں بلکہ اللہ نے قتل کیا تھا اور اے رسول تو نے کنکر نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے پھینکے۔یعنی چونکہ تم خدا کا آلہ بن گئے اس لئے تمہارا افعل خدا کا فعل ہے۔اس مجاز کے مطابق کسی نیک انسان کا آنا خدا کا آنا کہلاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو تو رات نے بایں الفاظ ذکر کیا ہے :۔خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا اور فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی۔(استثناء ۳۳/۲) پس اندرین صورت كَأَنَّ الله نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ کے معنے بالکل صاف ہیں اور اس سے خدا کے باپ ہونے کے دعوے کا ثبوت نکالنا مذ ہب اور زبان عربی کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔هداهم الله - اسی الہام کی تشریح میں حضرت نے فرمایا ہے بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہوگا ایک دن محبوب میرا کروں گا دُور اُس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا ور شمین اُردو) سو ہم گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو گیا اور سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ذریعہ آسمانی فیوض و برکات کا واضح ظہور ہورہا ہے، 99 89