تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 88 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 88

ہم یہ بھی بتادینا چاہتے ہیں کہ جس طرح لفظ ” ایام الله “ ( خدا کے دن) سے خدا کی نعمتیں اور عذاب مراد ہوتے ہیں دیکھو آیت ذَكِّرُ هُمْ بِأَيَّام الله (ابراہیم رکوع ۱ ) اسی طرح اس کے نزول اور ظہور کو رحمت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی اللہ کے نزول کے معنی اس کی رحمت اور فضل کا نزول ہوتا ہے کیونکہ وہ ذاتِ برحق نزول وصعود اور حرکت سے بالا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حَتَّى 66 يبقى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرِ الحديث “ ( بخاری ومسلم - مشکوۃ کتاب الصلوۃ صفحہ ۱۰۹) یعنی ہر شب ہمارا خدا دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے۔اس حدیث کی شرح میں تمام اکا بر متفق ہیں کہ ” نزول الرب" سے مراد اس کے فضل کا نزول ہے۔چنانچہ لمعات میں لکھا ہے :- النُّزُولُ وَالْهُبُوطُ وَالصَّعُودُ وَالْحَرَكَاتُ مِنْ صِفَاتِ الْأَجْسَامِ وَاللهُ تَعَالَى مُتَعَالٍ عَنْهُ وَالْمُرَادُ نُزُولُ الرَّحْمَةِ وَقُرُبُهُ تَعَالَى بِانْزَالِ الرَّحْمَةِ وَإِفَاضَةُ الْأَنْوَارِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَاتِ وَاعْطَاءِ الْمَسَائِلِ وَمَغْفِرَةِ الذُّنُوْبِ ( حاشیہ مشکوۃ مجتبائی صفحہ ۱۰۹) پھر موطا امام مالک کے حاشیہ پر بھی لکھا ہے :- قوْلُهُ يَنْزِلُ رَبُّنَا أَى نُزُولُ رَحْمَةِ وَمَزِيدُ لُطْفِ وَإجَابَةُ دَعْوَةٍ وَقُبُولُ مَعْذِرَةٍ كَمَا هُوَ دَيْدَنُ الْمُلُوكِ الكُرَمَاءِ وَالسَّادَةِ الرَّحْمَاءِ إِذَا نَزَلُوا بِقُرْبِ قَوْمٍ مُحْتَا جِيْنَ مَلْهُؤْفِيْنَ لا نُزُولُ حَرَكَةٍ وَإِنْتَقَال لِاسْتِحَالَةِ ذَالِكَ عَلَيْهِ سُبْحَانَهُ - (بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ الله صفحه ۷۴) غرض نزول الہی سے مراد اُس کی برکات اور فیوض کا نزول شرع کا ایک عام محاورہ ہے۔اب الہام کا مفہوم یوں ہو جائے گا کہ وہ لڑکا بلند اقبال ہوگا۔اس کے آنے کے ساتھ خدا کا فضل اور اس کی برکات آئیں گی۔فَلَا اعْتَرَاضَ۔88