تفہیماتِ ربانیّہ — Page 771
کا ذکر ہے۔شیعہ صاحبان کے ہاں لکھا ہے :- (الف) " نَزَلَتْ فِي الْقَائِمِ الِ مُحَمَّدٍ۔“ ( بحار الانوار جلد ۱۲ صفحه ۱۲) کہ یہ آیت امام مہدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“ (ب) مراد از رسول در اینجا امام مهدی موعود است 66 (غایة المقصو دجلد ۲ صفحہ ۱۲۳) (۳) آیت يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَآءُ کے بارے میں شیعہ تفسیر میں لکھا ہے :- قِيلَ الرُّوحُ الْوَحْيُ۔۔۔وَقِيلَ إِنَّ الرُّوحَ هُهُنَا النُّبُوَّةُ عَنِ الْمُدّي۔“ ( تفسیر مجمع البیان جلد ۲ صفحہ ۳۱۰) کہ بعض نے اس آیت میں الروح سے مراد وحی لی ہے۔سنڈی کہتے ہیں کہ اس جگہ نبوت مراد ہے۔“ پس اس آیت سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی نبوت کو جاری رکھے گا۔(۴) آیت وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِینَ کے متعلق شیعہ صاحبان کا عقیدہ ہے کہ :- (الفت) " مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا مِنْ لَدُنْ أَدَمَ إِلَّا وَيَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا فَيَنْصُرُ آمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ۔“ ( تفسیر اتمی صفحه (۲۳) (ب) فرمود که آن وقتے خواهد بود که حق تعالیٰ جمع کند در پیش روئے اور پیغمبراں و مومنان را تا یاری کنند اور ا ( حق الیقین صفحه ۱۵۶) گویا شیعہ بھائیوں کے نزدیک امیر المومنین امام مہدی علیہ السلام کی نصرت کے لئے سب نبی تشریف لائیں گے۔اس عقیدہ رجعت کے رُو سے جب سب نبی آسکتے ہیں تو ایک نبی کی بعثت پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ (۵) آيت يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنكُمْ کے متعلق شیعہ تفسیر میں لکھا ہے :- فَقَالَ لِبَنِي آدَمَ وَهُوَ خِطَابٌ يَعُمُّ جَمِيعَ الْمُكَلَّفِينَ مِنْ بَنِي آدَمَ مَنْ جَاءَهُ الرَّسُولُ مِنْهُمْ وَمَنْ جَازَآنْ يَأْتِيَهُ الرَّسُولُ “ 66 ( مجمع البیان زیر آیت مذکوره ) ترجمہ - اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کا لفظ رکھا ہے جس سے تمام مکلف انسان مراد (771)