تفہیماتِ ربانیّہ — Page 740
پادریوں کو شکست دے دی۔“ دیا چه معجز نما کلاں قرآن شریف مترجم مطبوعه ۱۹۳۳ء صفحه ۳۰) کیا اس واضح حقیقت کے باوجود کسی مسلمان کو عقیدہ وفات مسیح کا انکار کرنا چاہیئے ؟ بیچ ہے ے ابن مریم مرگیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم مبحث دوم ختم نبوت ختم میقت کی حقیقت ایک ضروری وضاحت۔جماعت احمدیہ کا مسئلہ نبوت میں جو اختلاف موجودہ علماء سے ہے پہلے اسے سمجھ لینا چاہئے۔یاد رہے کہ سلسلہ انبیاء حضرت آدم سے شروع ہوا۔ہر نبی ایک قوم کی طرف، اور محدود زمانہ کے لئے آیا کرتا تھا۔ہر نبی کا انتخاب بلا واسطہ اور بغیر کسی دوسرے نبی کی پیروی اور اتباع کے ہوا کرتا تھا۔گویا ہر نبی مستقل ہوتا تھا کسی کا امتی نبی نہ ہوتا تھا۔پھر یہ سابق انبیاء دو قسم کے ہوتے تھے، بعض شریعت جدیدہ لیکر آتے تھے اور بعض نئی شریعت نہ لاتے تھے بلکہ سابقہ شریعت کی پیروی کرانے کے لئے آتے تھے۔نئی شریعت لانے والے نبیوں کو تشریعی نبی کہا جاتا ہے اور جو نبی پہلی شریعت کی پیروی کرانے کیلئے آتے تھے وہ غیر تشریعی نبی کہلاتے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ اب تمام نسلِ انسانی کو متحدہ مرکز پر جمع کر دیا جائے اور انسانی دماغ بھی بلوغت کو پہنچ گیا تو اس نے قومی نبیوں کے سلسلہ کو ختم کر دیا۔(740)