تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 725 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 725

فتویٰ دیا جسے مصر کے ماہنامہ الرسالۃ نے جلد ۱۰ اور نمبر ۴۶۲ میں شائع کیا ہے۔حضرت یح کا انجام از روئے قرآن مجید قرآن کریم نے تین مختلف سورتوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ان آخری حالات کو ذ کر کیا ہے جو اُن کو اپنی قوم سے تعلق میں پیش آئے :۔(۱) سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فَلَمَّا أَحَسٌ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ لِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (آیت ۵۲-۵۵) (۲) سورۃ النساء میں اللہ تعالی فرماتا ہے : وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ عَزِيزًا حَكِيمًا ( آیت ۱۵۷ - ۱۵۸) (۳) سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (آیت ۱۱۶ - ۱۱۷) یہی وہ آیات ہیں جن میں قرآن کریم نے حضرت مسیح کے اس انجام کو بیان فرمایا ہے جو انہیں اپنی قوم کے تعلق میں پیش آیا تھا۔آخری آیت یعنی سورۃ المائدہ کی آیت اگلے جہان کی اس گفتگو کو بیان کرتی ہے جو نصاری کی طرف سے دنیا میں مسیح اور ان کی والدہ کی عبادت کرنے کے بارے میں ہوگی جبکہ اللہ تعالٰی حضرت مسیح سے اس کے متعلق دریافت فرمائے گا۔یہ آیت تصریح کر رہی ہے کہ حضرت مسیح عرض کریں گے کہ انہوں نے عیسائیوں کو صرف وہی بات کہی تھی جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے اُن کو حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اے لوگو! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔نیز وہ عرض کریں گے کہ میں جب تک اُن کے درمیان موجود تھا میں ان کا نگران تھا۔البتہ مجھے اس کے بعد ہونے والے واقعات کا علم نہیں جب اللہ تعالیٰ نے مجھے وفات دے دی تھی۔(725)