تفہیماتِ ربانیّہ — Page 715
آپ مسجد الحرام میں ہی تھے۔بلکہ خود قرآن کریم میں بھی اس کو ایک رؤیا قرار دیا گیا ہے۔فرمایا وَمَا جَعَلْنَا الرُّه يَا التِى أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً للناس (بنی اسرائیل رکوع ۶) گویا معراج ایک اعلی درجہ کا کشف تھا۔پس مسیح کی مزعومہ جسمانی طویل آسمانی زندگی سے معراج کو کیا نسبت؟ تیسری حیثیت اور وفات مسیح لا عیسائی دنیا حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کر کے پکارتی ہے۔اللہ تعالیٰ تمام باطل معبودوں کے متعلق فرماتا ہے وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ اَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ، وَمَا يَشْعُرُونَ آيَانَ يُبْعَثُونَ (النحل رکوع ۲) کہ جن کو لوگ اللہ کے سوا معبود کر کے پکارتے ہیں، انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا، بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں۔وہ فوت شدہ ہیں، زندہ نہیں۔اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے؟“ اب بھلا بتائیے کہ ایسی صریح نص کی موجودگی میں بھی کوئی شخص حیات مسیح پر مصر رہے تو کیا وہ نصاری کا مددگار نہ ہوگا ؟ ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مد د دادند دلیری با پدید آمد پرستاران میت را حضرت مسیح کا نام لیکر اُن کی وفات گوی ضروری نہیں تھا کہ اس قدر نصوص کی موجودگی میں نام لے کر وفات مسیح کا ذکر کیا جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مسیح کا نام لیکر بھی ان کی وفات کا ذکر کر دیا ہے۔فرماتا ہے :- (۱) إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَىٰ وَمُطَهِرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ : ( آل عمران رکوع ۶ ) ترجمہ۔یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسٹی میں تجھے وفات دوں گا، پھر تیرا رفع کروں گا ، اور کافروں کے الزامات سے تیری تطہیر کروں گا، اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر تا قیامت غلبہ دوں گا۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح سے چار وعدے فرمائے تھے۔اور سب سے پہلے وفات کا وعدہ ہے۔ترتیب قرآنی اور نص حديث أبدوا بِهَا بَدَءَ اللهُ “ " ، (715)