تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 700 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 700

"اے ملکہ توبہ کر اور اس ایک خدا کی اطاعت میں آجا جس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ شریک اے زمین کی ملکہ اسلام کو قبول کر ، تا تو بچ جائے۔آمسلمان ہو جا۔“ آئینہ کمالات اسلام ۵۳۲ - ۵۳۴) انگریزی حکومت مست تعلق علماء وزعماء کے فتوے (۱) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈوکیٹ اہل حدیث نے لکھا: (الف) مسلمان رعایا کو اپنی گورنمنٹ سے، خواہ وہ کسی مذہب یہودی عیسائی وغیرہ پر ہو اور اس کے امن و عہد میں وہ آزادی کے ساتھ شعار مذہبی ادا کرتی ہو، لڑنا یا اس سے لڑنے والوں کی جان و مال سے اعانت کرنا جائز نہیں۔بناء علیہ اہلِ اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے۔“ اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۱۰ صفحه ۲۸۷) (ب) ”بھائیو! اب سیف کا وقت نہیں رہا۔اب تو بجائے سیف قا ہی سے کام لینا ضروری ہو گیا ہے۔“ ( اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۱۲ صفحہ ۳۶۵) (۲) مولوی مسعود عالم صاحب ندوی لکھتے ہیں :۔”ہندوستان کی جماعت اہلحدیث کے سر کردہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے سرکار انگریزی کی اطاعت کو واجب قرار دیا۔۔۔۔جہاد کی منسوخی پر ایک رسالہ (الاقتصاد فی مسائل الجهاد) فارسی زبان میں تصنیف فرمایا تھا، اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے بھی شائع کرائے تھے۔معتبر اور ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ اس کے معاوضے میں سرکار انگریزی سے انہیں جاگیر بھی ملی تھی۔کتاب ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک صفحه ۲۹) (۳) مولوی عبد الرحمن صاحب کشمیری نے کہا کہ سر خیل جماعت سید الطائفہ مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی نے بھی سیاست سے کنارہ کشی کر لی۔انگریزوں کے خلاف فتوی جہاد پر دستخط نہیں کئے۔“ (۴) ایڈیٹر چٹان لکھتے ہیں :- -: (اخبار تر جهان دیلی یکم فروری ۱۹۶۲ء) جن لوگوں نے حوادث کے اس زمانے میں نسخ جہاد کی تاویلوں کے علاوہ اطیعوا الله (700)