تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 697 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 697

(۲) تلسی رام صاحب نے لکھا ہے :- ابتداء میں سکھوں کا طریق غارت گری اور لوٹ مار کا تھا۔جو ہاتھ آتا تھا لوٹ کر اپنی اپنی جماعت میں تقسیم کر لیا کرتے تھے۔مسلمانوں سے سکھوں کو بڑی دشمنی تھی۔اذان یعنی بانگ کی آواز بلند نہیں ہونے دیتے تھے۔( شیر پنجاب مطبوعہ ۱۸۷۲ء) (۳) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :- ور مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور ان کے دست تعدی سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا ہی تباہ تھی بلکہ ان کے دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔دینی فرائض کا ادا کرنا تو درکنار بعض اذان کے کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے۔“ ( اشتہار ۱۰ر جولائی ۱۹۰۰ء) انگریزی حکومت کا ابتدائی دور انگریزوں نے ۲۱ جولائی ۱۸۱۳ء کو شاہ برطانیہ کے دستخطوں سے فیصلہ کیا تھا کہ اس ملک (برطانیہ) کا فرض ہے کہ وہ مفید علوم وفنون کو رواج دے اور ہندوستان میں مذہبی اور اخلاقی اصلاحات نافذ کرے۔“ ہسٹری آف پروٹسٹنٹ مشنر صفحہ ۸۹) پنجاب میں عیسائیت کی تبلیغ کا آغاز لدھیانہ سے ہوا۔۵ رنومبر ۱۸۳۴ء کو پادری ہے۔سی۔لوری نے ابتداء کی اور لدھیانہ میں پنجاب کا پہلا گر جا گھر ۱۸۳۷ء میں تعمیر ہوا۔۱۸۲۶ء سے ۱۸۴۹ء تک کے عرصہ میں انگریزی حکومت نے پنجاب پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد عیسائیت کی تبلیغ سارے ملک میں زور شور سے شروع ہوگئی۔۱۸۵۲ء میں امرتسر میں پہلا مشن قائم ہوا اور آخر دسمبر ۱۸۵۳ء میں پشاور میں مشن کھولا گیا۔حضرت سید احمد صاحب شہید کا مشن لکھا ہے :۔جب ان (سکھوں) کا ظلم برداشت نہ ہوسکا تو حضرت سید احمد صاحب مدظلہ نے حمائت دین کی خاطر چند مسلمانوں کو ساتھ لیا اور کابل اور پشاور کی طرف گئے۔“ ٹریکٹ ترغیب الجہاد مطبوعہ قنوج ) یہ اُس زمانہ کی بات ہے جبکہ لدھیانہ سے شمال کی طرف سارے پنجاب پر سکھوں کا قبضہ تھا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کی سلطنت تھی۔حضرت سید احمد صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ انگریزوں سے جہاد نہیں کرتے اور سکھوں سے جہاد کرنے کے لئے دور دراز جارہے ہیں؟ تو آپ نے جواباً فرمایا :- سر کا انگریزی گومنکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم وتعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی (697)