تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 665 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 665

اوّل۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو چاک کر کے مسیح کو وہاں دفن کرنا ہوگا حالانکہ کوئی غیور مسلمان اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔اگر کہو کہ اگر چہ لغت میں قبر بمعنی مقبرہ نہیں آتا مقبرہ تو موضع القبور کو کہتے ہیں لیکن ہم تا ویلا اس قبر سے مراد مقبرہ لیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اس سے بھی ہمارا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ اس فقرہ کے معنی بجز تاویل درست نہیں ہو سکتے۔اور جب تم قبر کے معنوں میں تاویل کر سکتے ہو تو دوسرا شخص بھی قبر سے روحانی قبر مراد لے سکتا ہے۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آنَا أَوَّلُ مَنْ يَنشَقُ عَنْهُ القبر (مسلم جلد ۲ صفحہ ۲۷۸) میری ہی یہ خصوصیت ہے کہ نشور کے وقت سب سے پہلے میری قبر کھولی جائے گی۔اگر مسیح بھی ساتھ ہوں تو یہ خصوصیت باطل ہو جائے گی۔سوم۔حضرت عائشہ صدیقہ نے رویا میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گرے ہیں۔رَأَيْتُ َثلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطنَ فِي حُجْرَتِي - الحديث (موطا امام مالک جلد ۱ صفحہ ۱۲۱ مصری) اور وہ تینوں چاند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ اس جگہ مدفون ہو چکے۔اب اگر حضرت مسیح بھی وہاں دفن ہوں تو حضرت عائشہ کی رؤیا میں خلل پیدا ہوگا۔اب جب اس حدیث کے ظاہری معنی مراد نہیں ہو سکتے تو لازماً اس کے روحانی معنی ہوں گے۔اندریں صورت اس جگہ برزخی قبر مراد ہوگی۔کیونکہ ایک روحانی قبر بھی ہوتی ہے جیسا کہ ترمذی کی حدیث الْقَبُرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفْرٍ النِيْرَانِ سے ثابت ہے اور ایسا ہی آیت ثُمَّ آمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ( العبس ) کا بھی صریح منشاء ہے کہ ہر شخص کی قبر اللہ بنا تا ہے حالانکہ بہت سے لوگ نذر آتش ہو جاتے ہیں یا درندے ان کو کھا جاتے ہیں کیا اُن کی قبر نہیں ؟ ضرور ہے۔اگر برزخی قبر نہ مانی جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عذاب قبر حض مسلمانوں کے لئے ہے۔الغرض ہر انسان کی اس کے مرنے کے بعد ایک روحانی قبر ہوتی ہے۔آنحضرت نے مسیح موعود کے اس قبر میں ساتھ دفن ہونے کا ذکر فرمایا ہے تا لوگ سمجھیں کہ یہ موعود آنحضرت سے الگ نہیں بلکہ ان کا ہی ظل ہے۔اسی مفہوم کے لحاظ سے ہمارے حضرت نے فرمایا ہے :۔(665)