تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 632 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 632

دُعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں ے اے قدیر و خالق ارض و سما اے رحیم و مهربان و رہنما ایکه میداری تو بر دلها نظر ایکه از تو نیست چیزے مستتر گر تو می بینی مرا پر فسق و شر گر تو دید استی که هستم بد گهر پاره پاره گن من بدکار را شاد گن ایس زمرہ اغیار را بر دل شاں ابر رحمت با بیار پر مراد شاں مرادِ شاں بفضل خود برآر آتش افشان بر در و دیوار من د منم باش و تبه گن کار من در مرا از بندگانت یافتی قبله من آستانت یافتی در دل من آن محبت دیده کز جہاں آں راز را پوشیده با من از روئے محبت کارگن اند کے افشائے آں اسرار گن (حقیقة المهدی صفحه)) جن علماء اور سجادہ نشینوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم میں دعوت مباہلہ دی۔اُن میں سے بعض سعید الفطرت تو تو بہ کر کے حلقہ بگوشانِ احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس جگہ خصوصیت سے حضرت میاں غلام فرید صاحب سجادہ نشین چاچڑاں شریف قابل ذکر ہیں۔باقی لوگوں نے وہی وطیرہ اختیار کیا جو ہمیشہ سے باطل پرست اختیار کرتے آئے ہیں۔بیشک ان لوگوں نے تکذیب و تکفیر کے شور سے ایک کہرام برپا کر دیا۔مگر ان اصحاب فشل اور ارباب جین کو آسمانی پانی کے حامل یقین الہی کے مجسمہ، خدا کے جری، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل آکر مباہلہ کرنے کا یارا نہ ہوا۔اہلِ ایمان نے پھر ایک مرتبہ قرآنی صداقت وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا يمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللهُ عَلِيمٌ بِالظُّلِمِينَ (بقرہ رکوع ۱۱) کا ظہور ہوتے مشاہدہ کر لیا۔علماء کا یہ گریز ان کی بطالت کا زبردست گواہ ہے۔خود مولوی ثناء اللہ صاحب آیت بالا کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- اگر آرزوموت کی نہ کریں، تو ثابت ہو جائے گا کہ ان کو مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں۔صرف خواہش نفسانی کے پیچھے چلتے ہیں۔اور ہم ابھی سے کہے دیتے لے حضرت کے الہام انتَ مِنْ مَاء نَا وَهُمْ مِنْ فَشل ) انجام آتھم صفحہ ۵۶) کی طرف اشارہ ہے۔(ابوالعطاء) (632)