تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 630 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 630

عبد الحکیم کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔( تبصره ۵ /نومبر) گویا یہ عمر کا بڑھانا۔اور اس طرح عبد الحکیم کو جھوٹا ثابت کرنا اسی صورت میں مقدر تھا کہ جب وہ اپنی اس چودہ ماہیہ پیشگوئی پر قائم رہتا۔گویا بالکل وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ أَلفٍ مِنَ الْمَلَبِكَةِ مُسَوَمِيْنِ ( آل عمران رکوع ۱۳) والی پیشگوئی کی مثال ہے۔یادر ہے کہ اصل مقصد عبد الحکیم کو جھوٹا کرنا تھا۔تین سال اور چودہ ماہ کی پیشگوئی کے بعد اُس نے ۱۴ / اگست تک والی پیشگوئی کر دی۔جس کو حضرت اقدس نے بھی اپنی کتاب چشمہ معرفت میں ذکر فرمایا ہے، اور بالمتقابل عبد الحکیم کی ناکامی کا تذکرہ کیا ہے۔ڈاکٹر عبد الحکیم اپنی اس "سم را گست تک والی پیشگوئی پر بھی قائم نہ رہا اُس نے جھٹ ۱۵ رمئی کو م را گست تک کی بجائے "ہم راگست کو کی پیشگوئی کردی۔گویا اللہ تعالیٰ نے اُس کو ہر طرح سے جھوٹا کر دیا۔وھو المراد۔ناظرین کرام ! اس تفصیل سے آپ پر ظاہر ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر عبدالحکیم کے متعلق جو پیشگوئی فرمائ تھی وہ ہو بہو پوری ہوئی لیکن ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشگوئی باطل اور محض دروغ ثابت ہوئی۔الان حصحص الحق کا نظارہ دُنیا نے دیکھ لیا۔وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ معترض پٹیالوی نے پیشگوئیوں پر اعتراضات کے سلسلہ میں اس فصل کے دسویں نمبر پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ کو ذکر کیا ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مورخہ ۱۵ اپریل ۱۷ ء کو ایک اشتہار بعنوان مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ شائع فرمایا تھا۔یہ اشتہار اس مسلسل مقابلہ لے عبد الحکیم کی پیشگوئی کے سلسلے میں جناب میر قاسم علی صاحب مرحوم ایڈیٹر فاروق قادیان کا رسالہ ” بلعم ثانی قابل دید ہے۔(مؤلف) کے ہمارے مندرجہ ذیل بیانات میں معترض پٹیالوی کے اعتراضات کے علاوہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے رسالہ فیصلہ مرزا کا بھی مکمل جواب شامل ہے۔(ابو العطاء) (630)