تفہیماتِ ربانیّہ — Page 628
نجھوٹ ہے۔کیونکہ مرتد مذکور نے ان ہرستہ پیشگوئیوں پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ ان سب کے اخیر پر حضرت کی وفات کا دن بھی مقرر کر دیا تھا۔چنانچہ اس کا ثبوت ڈاکٹر عبد الحکیم کا خط ہے۔جو پیسہ اخبار اور اہلحدیث میں شائع ہوا اور وہ یہ ہے :- " مکرم بندہ السّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میرے الہامات جدیدہ جو مرزا غلام احمد کے متعلق ہیں اپنے اخبار میں شائع فرما کر ممنون فرما دیں۔(۱) مرزا ۲۱ رساون ۱۹۶۵ کو مرض مہلک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔(۲) مرزا کے کنبہ میں سے ایک بڑی معرکۃ الآراء عورت مر جائے گی۔والسلام خاکسار عبدالحکیم خاں۔ایم بی پٹیالہ ۸ رمئی ۹۰۸اء 65 روزانہ پیسہ اخبار مورخه ۱۵ مئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۴ کالم ۲) (۲) مولوی ثناء اللہ امرتسری نے لکھا تھا کہ : " آہ! ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ ہمارا اس خبر کے شائع کرنے سے دل دُکھتا ہے مگر کیا کریں واقعات کا اظہار ہے۔ہمارا ما تھا تو اُسی وقت اس بدخبر کے سننے کے لئے ٹھنکا تھا جب مرزا صاحب نے اپنا آخری وصیت نامہ شائع کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ مجھے وحی الہی نے متنبہ کر دیا ہے کہ جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے کہ لوگ کہیں گے خس کم جہاں پاک۔لیکن تاہم ہم قانون خداوندی وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمُ پر نظر ڈال کر ایسے جلدی کے متوقع نہ تھے جتنی جلدی کی خبر ہم کو آج ہمارے دوست ڈاکٹر عبد الحکیم خاں صاحب پٹیالوی نے سنائی ہے۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں۔” مرزا قادیانی کے متعلق میرے الہامات ذیل شائع فرماکر ممنون فرماویں (۱) مرزا ۲۱ - ساون ۱۹۶۵ (۴- اگست ۱۹۰۸ء) کو مرض مہلک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔(۲) مرزا کے کنبہ میں سے ایک بڑی معرکۃ الآراء عورت مر جائے گی۔“ (اہلحدیث ۱۵ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۶) ہم اس جگہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی یاوہ گوئی کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل مضمون (628)