تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 604 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 604

جلدی کرنا ہے تو اٹھو اور اُس کو بے باک اور مکذب بناؤ، اور اُس سے اشتہار دلا ؤ اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔“ (انجام آتھم صفحہ ۳۲ حاشیہ) الخرية اس تحری کے بعد حضور علیہ السلام قریباً بارہ برس زندہ رہے۔مگر کسی کے لئے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اُس سے تکذیب کا اشتہار دلاتا۔معلوم ہوا اُس نے اس ” تکذیب و استہزاء کو چھوڑ دیا تھا جو بناء پیشگوئی تھی۔حضرت کے فقرہ پھر جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے الہ ، سے ظاہر ہے کہ یہ اشتہار جس کے بعد اُس کی موت مقررہ میعاد میں ہونے والی تھی۔حضرت کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہے۔لہذا اخبار اہلحدیث ۱۴ / مارچ ۱۹۲۳ء کا شائع کردہ خط کہ ”میں نہ پیشگوئی سے ڈرا۔“ اس چیلنج کا جواب نہیں ہوسکتا۔بلکہ اس پر تو مشہور ضرب المثل 3 مشتے که بعد از جنگ یاد آید بر کله خود باند زد، صادق آتی ہے۔اس انکار کی وہی مثال ہے فرعونیوں پر جب عذاب آتا تو وہ عاجزی کرتے۔اور جب جاتا رہتا تو پھر اکڑ جاتے۔مرزا سلطان محمد کا حضرت کی زندگی میں حضور کے دعوی خوف و تو بہ کا انکار نہ کرنا ، بلکہ اس چیلنج پر باوجود مخالفین کی انگیخت کے خاموشی اختیار کرنا ، حالانکہ ان کی منکوحہ کا اس طرح بر ملا ذکر ہوتا تھا۔ان کے خوف کا گھلا کھلا ثبوت ہے۔۱۹۲۴ء میں مولوی ثناء اللہ امرتسری نے پٹی جا کر جس طرح اس سے یہ خط لکھوایا ہے۔وہ خود اس کے خوفزدہ ہونے کا ثبوت ہے۔فتدبر۔ثبوت سوم - مرزا سلطان محمد نے ۱۹۱۳ء میں ایک صاحب کے نام حسب ذیل خط لکھا ہے۔وھو ھذا۔( از انبالہ چھاؤنی ۲۱ / مارچ ۱۹۱۳ء) برادرم سلمه ! السلام علیکم نوازش نامہ آپ کا پہنچا۔یادآوری کا مشکور ہوں۔میں جناب مرزا جی صاحب مرحوم کونیک، بزرگ، اسلام کا خدمت گزار ، شریف النفس، خدا یاد پہلے بھی اور اب بھی خیال کر رہا ہوں۔مجھے ان کے مریدوں سے کسی قسم کی مخالفت نہیں ہے۔بلکہ افسوس کرتا ہوں کہ چند ایک امورات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ان کا شرف حاصل نہ کر سکا۔لے اس خط کا عکس بھی شائع ہو چکا ہے۔(ابوالعطاء) انبالہ چھاؤنی ۲۱۳ نیازمند سلطان محمد از انباله رساله ،، (604)