تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 591 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 591

السَّابِقَة - انجام آتھم صفحہ (۲۲۳) اس پیشگوئی کے متعلق کوئی الہام ایسا نہیں کہ اس کے ساتھ شرط نہ ہو۔جیسا کہ میں اس سے پہلے ذکر کر چکا ہوں۔“ ثبوت پنجم۔اس پیش گوئی کا نفس مضمون ہی اس کے شرطی ہونے کا گواہ ہے۔کیونکہ وعیدی پیش گوئیاں سب کی سب مشروط ہوا کرتی ہیں۔کما مر - ثبوت ششم - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک بیان مصنف ”تحقیق لاثانی نے نقل کیا ہے۔ہم اس کا متعلق حصہ اس جگہ درج کرتے ہیں۔فرمایا :- اس لڑکی کے باپ کے مرنے ، اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی۔اور شرط تو یہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا۔اور پیشگوئی کی دوسری بجز پوری ہوگئی ، اس کا خوف اُس کے خاندان پر پڑا۔اور خصوصا شوہر پر پڑا جو پیشگوئی کا ایک جز تھا، انہوں نے توبہ کی۔چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔اس لئے خُدا نے اس کو مہلت دی۔‘ ( تحقیق لاثانی صفحہ ۷۰) ان حوالجات سے ظاہر ہے کہ محمدی بیگم کے باپ اور خاوند کی موت کی پیشگوئی شرطی تھی۔اور یقینا شرطی تھی۔معترض پٹیالوی اور پیشگوئی کا شرطی ہونا معترض نے اپنے سارے بیانات میں زور دیا ہے کہ کسی طرح یہ پیشگوئی شرطی ثابت نہ ہو سکے۔چنانچہ ہم ذیل میں اس کی عبارات کو نقل کر دیتے ہیں۔لکھا ہے -: قوله (۱) پیشگوئی نکاح کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی۔اشتہارات ۱۰ ر جولائی اور ۱۵ جولائی ۱۸۸۸ء اور آئینہ کمالات اسلام و غیرہ کو دیکھو اور غور کرو کہ کون سی شرط ان میں درج ہے۔اور اسے وعیدی پیشگوئی کس طرح کہا جاسکتا ہے۔جس جملہ تُوبِى تُؤْبِى فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِكِ کو شرط بتایا جاتا ہے۔نکاح کے متعلق اس کا ذکر مرزا صاحب کے اہ گویا آپ شرطی پیشگوئی اور وعیدی پیشگوئی کو ایک ہی سمجھتے ہیں! مؤلف 591