تفہیماتِ ربانیّہ — Page 585
رجوع ناقص تھا۔اس لئے جس قدر وہ اسلام کی طرف لوٹا یا جس قدر اُس نے عیسائیت سے بداعتقادی اختیار کی ، اسی قدر اس کو ہاویہ سے بچایا گیا۔فلا اشکال فیہ۔ان جوابات کا خلاصہ یہ ہے کہ لفظ رجوع الی الحق اور ہاد یہ ہر دو کی دو دو حیثیتیں ہیں۔جس حیثیت سے ان کا اجتماع محال بتایا گیا ہے۔اس حیثیت سے اجتماع نہیں ہوا۔اور جس حیثیت سے ان کا اجتماع واقع ہوا ہے۔وہ ان کے ناممکن الاجتماع ہونے والی حیثیت سے الگ ہے سچ ہے لولا الحيثيات لبطلت الحكمة۔کیا پٹیالوی صاحب یا اُن کے ہمنوا ان جوابات پر دیانت وامانت کے ساتھ غور کریں گے۔اور آتھم والی پیشگوئی پر جو اسلام واحمدیت کی صداقت کا زبردست ثبوت ہے ایمان لائیں گے؟ کشتی نوح کے فقرہ ”ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔پر اعتراض کا جواب فصل پنجم میں گزر چکا ہے۔66 محمدی بیگم والی پیش گوئی معترض پٹیالوی نے اس فصل کے نمبر میں مختلف عنوانات سے محمدی بیگم والی پیش گوئی کو ذکر کیا ہے، اور پھر اسی پیشگوئی کے متعلق عشرہ کاملہ کے متعدد مقامات کے علاوہ ایک علیحدہ کتاب بنام " تحقیق لاثانی بھی شائع کی ہے۔اس ثانی الذکر کتاب میں انہی حوالجات کو بار بار ذکر کر کے اور سخت زبانی اختیار کر کے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا ہے۔میں نے اس کے اعتراضات کو بار بار اور مخلی بالطبع ہوکر پڑھا کہ ان میں کونسی ایسی بات ہے جس پر مکذب پٹیالوی کو ناز ہوسکتا ہے۔لیکن اس کی یہ طویل عبارتیں محض ”کوہ کندن و کاه بر آوردن" کا مصداق ثابت ہوئیں۔ہم اس پیشگوئی سے متعلق بعض اعتراضات کے جواب فصل ہشتم و نہم وغیرہ میں بھی درج کر چکے ہیں۔اس جگہ نفس پیشگوئی کے متعلق قدرے تفصیل سے بحث کرنی مطلوب ہے۔معترض نے ان ہر سہ نمبروں میں حضرت کے حوالجات سے لکھا ہے کہ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو میں ایسا ایسا ہوں گا۔اور پھر خود ہی لکھ دیا ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی پیشگوئی (585)