تفہیماتِ ربانیّہ — Page 554
ڑکنا یقیناً اسلامی تصوف نہ ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مالدار مومن سے کہا تھا اِنَّ اللهَ يُحِبُّ أَنْ يُرى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلى عَبدہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی نعمت کا نشان اس کے بندے پر نمایاں ہو۔“ الغرض اِس زمانہ میں تصوف اور شریعت کی صحیح راہ بتانے والا وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اور آپ نے اپنے قول اور عمل سے اس کا بہترین نمونہ قائم کیا ہے۔جس نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو پاکیزہ اور مظہر بنادیا - اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَى مُطَاعِهِ وَسَلَّمْ دَائِماً أَبَداً فقرہ دہم۔” بہشتی مقبرہ (۱) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی اور ایماء کے ماتحت جماعتِ احمدیہ کے صاحب تقویٰ، ایثار پیشہ، اور صلحاء کے لئے ایک بہشتی مقبرہ تجویز فرمایا۔یہ قبرستان آسمانی بشارتوں کے باعث مومنین کی نظر میں خاص وقعت رکھتا ہے۔لیکن کافر اور منافق اس انتظام پر معترض ہیں۔پٹیالوی صاحب کے لئے تو یہ امر سوہانِ روح بن رہا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے پاس کھنا کھن روپیہ آتا ہے حالانکہ روپیہ دینے یا لینے والے جانیں، تمہیں بے جادخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ نہیں ، اسے ضرورت ہے کہ افتراء کرے۔چنانچہ معترض لکھتا ہے :۔۱۹۰۶ء میں اس مقبرہ پر تین ہزار روپیہ صرف کیا اور ۱۹۰۷ ء کے لئے گیارہ ہزار کا مطالبہ ہوا۔اور صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا کہ جو کوئی اس مقبرہ میں مدفون ہوگا بہشتی ہو جائے گا۔اب غور کا مقام ہے کہ کیا اس اعلان سے گل انبیاء کرام خصوصاً حضرت محمد مصطفیٰ (554)