تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 552 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 552

تو دخل مت دے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۴۴) جوابا واضح رہے کہ معترض کا یہ مطالبہ احمد یہ لٹریچر سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود تحریر فرماتے ہیں کہ : سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبد الرحیم خان ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا تھا اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہیں دیتی تھی۔گویا مردہ کے حکم میں تھا۔اس وقت میں نے اس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔تب میں نے جناب الہی میں عرض کی کہ یا الہی ! میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا۔مَنْ ذَالَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا پاڈیہ۔یعنے کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے؟ تب میں خاموش ہو گیا۔بعد اس کے بغیر توقف کے یہ الہام ہوا إنَّكَ أَنتَ الْمَجَاز نے تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خدا تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیا۔“ (حقیقة الوحی صفحه ۲۱۹) ہم اس واقعہ کو لغزش سے تعبیر نہیں کر سکتے لیکن حضرت جنید کے قصہ سے بالکل مشابہ ہے۔(۴) اس فقرہ نہم کے آخر میں معترض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے پر اور آپ کے پاس ہزاروں روپوں کے آنے پر اعتراض کیا ہے۔افسوس کہ یہ لوگ جو ایسے مہدی کے قائل ہیں کہ وہ روپوں سے اُن کے گھر بھر دے گا، روپیہ کا اعتراض کرتے ہیں۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حفاظت (552)