تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 50 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 50

ایلیا ہے تو آپ نے انکار فرما دیا (یوحنا ۱/۲۱) حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کے حق میں صاف فرمایا تھا کہ وہی موعود ایلیا ہیں۔(متی ۱۵-۱۷۱۲) حضرت یحی کا انکار یہود کی ٹھوکر کا موجب ہوا۔مگر یہ سب واقعات اس حقیقت ثابتہ کوظاہر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے نبی کس قدر محتاط اور بے نفس ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پہلی وحی ہوئی تو حضور نے فورا شور نہ مچادیا کہ میں نبی اور رسول ہوں بلکہ احادیث سے ثابت ہے کہ حضور نے گھر میں حضرت خدیجہ سے سب حالات بیان کئے اور وہ آپ کو ورقہ ابن نوفل عیسائی کے پاس لے گئیں اور سارا ماجرا بیان کیا۔ورقہ نے سب سے پہلے کہا :- هذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسی۔( بخاری جلد اول صفحه ۲۴ مطبوعہ مصر ) یہ تو وہ فرشتہ (جبرائیل) ہے جو حضرت موسیٰ پر شریعت لیکر آیا تھا (یعنی آپ بھی صاحب شریعت رسول ہیں۔) کئی نادان ہیں جو اس واقعہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ اپنے دعوے کو نہ سمجھ سکے اور ورقہ کے کہنے پر آپ نے سمجھا۔مگر یہ غلطی ہے۔در حقیقت اس سارے واقعہ میں بھی نہایت خوبصورت پیرایہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے نفسی اور سادگی عیاں ہے ورنہ کوئی کذاب اور منصوبہ باز ہوتا تو فی الفور اشتہار شروع کر دیتا۔پھر اور دیکھئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل تھے مگر جب تک حضور کیلئے اس کی کامل تشریح نہ کر دی گئی کبھی حضور نے اپنی فضیلت کا اعلان نہ فرمایا۔بظاہر یہ موٹی بات تھی کہ جو ساری دنیا کے لئے رسول ہے اور جس پر آیت قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جميعا (الاعراف ملیہ رکوع ۲۰) نازل ہو چکی ہو وہ بہر حال قومی اور ملکی رسولوں سے افضل ہوگا اور جو تا قیامت زندہ رسول ہے وہ وقتی اور محدود عرصہ کے انبیاء سے ممتاز ہوگا۔مگر آپ نے عملاً جو کیا وہ یہ تھا کہ جب ایک مسلم اور یہودی کا حضرت موسی اور آپ کی فضیلت پر نزاع ہو گیا تو آپ نے فرمایا لا تخیرونی علی موسی (مسلم جلد ۲ صفحہ ۳۱۰ فضائل موسیٰ ) یعنی حضرت موسیٰ پر مجھے فضیلت مت دو۔پھر ایک اور روایت میں حضرت یونس کے متعلق فرما یا مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونس بن متى فقد كذب ( ترمذی جلد ۲ صفحه ۱۵۶) یعنی جو مجھے یونس سے بڑا کہے وہ کا ذب ہے۔لیکن جب بارگاہ ایزدی سے آپ کی افضلیت کا کھلا کھلا اعلان کیا گیا تو آپ نے فرما دیا أَنَا سَيَدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ۔میں سب آدم زادوں کا سردار ہوں۔اب کیا 50 50