تفہیماتِ ربانیّہ — Page 540
اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے۔اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لئے گئے۔اور جن سے پچیس روپے لئے گئے ہوں وہ تو صرف چند ہی 66 انسان ہیں۔( عشره صفحه ۱۳۵ بحواله ایام الصلح ) پس اب جہاں تک قیمت کا سوال ہے وہ بھی قابلِ اعتراض نہیں۔جن لوگوں نے قیمتیں دیں ان میں سے حضرت کے دعوی ماموریت کے بعد بعض حضور کے مرید ہو گئے جن کا سارا مال حضور پر شار تھا اور بعض مخالف، سو انہوں نے اپنی قیمتیں بھی واپس لیں اور گالیاں بھی دیں۔ممکن ہے کہ کوئی شخص ایسا بھی ہو جو حضور کا مرید نہ ہولیکن اپنا روپیہ بھی واپس نہ لینا چا ہے۔بہر حال قیمت کی عدم ادائیگی یا واپسی کے متعلق سوال سراسر باطل ہے اور اس سے زیادہ حماقت یہ ہے کہ معترض لکھتا ہے کہ : د گل شائع شدہ اور فروخت شدہ کتابوں کی تعداد اور گل وصول شدہ رقم کی فہرست شائع کرتے اور اس کے ساتھ تفصیل دیتے کہ کس قدر کتابیں مفت گئیں اور کس قدر ۸/ قیمت پر ، کتنے لوگوں نے کتابیں واپس کر کے قیمت واپس لی۔اور کتنے لوگوں کا کتنا رو پید امانتاً باقی رہ گیا اور وہ کس مصرف میں آیا۔(عشرہ صفحہ ۱۳۶) : گویا حضرت مرزا صاحب آپ کے ملازم تھے۔بندہ خدا ! نہ تم کتاب لینے والوں میں ، اور نہ قیمت دینے والوں میں۔جن کی قیمتیں تھیں وہ واپس لے چکے یا حضور کے ہاتھ پر بیعت کر چکے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے عام اعلان ہے کہ اگر کسی نے حضور علیہ السلام کو براہین کی پیشگی قیمت دی تھی تو وہ اپنا ثبوت دے کر ، کتاب واپس کر کے آج بھی قیمت واپس لے سکتا ہے۔لیکن اب صرف مصنف عشرہ کی قماش کے لوگ ہیں جو بلا سوچے سمجھے اعتراض کئے جاتے ہیں۔حالانکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ حضور نے قیمت واپس لینے والوں کے لئے دو تین مرتبہ اشتہار دیا۔(عشرہ صفحہ ۱۳۵) حضور نے اپنے اشتہار زیر عنوان ” براہین احمدیہ اور اس کے خریدار (540)