تفہیماتِ ربانیّہ — Page 527
الفاظ اپنے دشمنوں کی نسبت استعمال کرنے پڑتے ہیں۔چنانچہ انجیل میں کس قدر نرم تعلیم کا دعوی کیا گیا ہے تاہم انہی انجیلوں میں فقیہوں ، فریسیوں ، اور یہودیوں کے علماء کی نسبت یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ وہ مکار ہیں، فریبی ہیں، مفسد ہیں، سانیوں کے بچے ہیں، بھیڑیئے ہیں ، اور نا پاک طبع ، اور خراب اندرون ہیں اور کنجریاں ان سے پہلے بہشت میں جائیں گی۔ایسا ہی قرآن شریف میں زنیم وغیرہ الفاظ موجود ہیں۔پس اس سے ظاہر ہے کہ جو لفظ محل پر چسپاں ہو وہ دشنام دہی میں داخل نہیں۔اور کسی نبی نے سخت گوئی میں سبقت نہیں کی بلکہ جس وقت بدطینت کافروں کی بدگوئی انتہاء تک پہنچ گئی تب خدا کے اذن سے 66 یا اس کی وحی سے وہ الفاظ انہوں نے استعمال کئے۔“ ( تخمه حقیقة الوحی صفحه ۲۰-۲۱) معترض پٹیالوی بھی اس فرق سے متفق ہے تب ہی تو اس نے قرآن مجید کی سخت کلامی کو جواباً پیش کرنے پر لکھا ہے :- گویا مرزا صاحب اپنے طرز کلام کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔“ ( عشرة صفحه ۱۱۱) جس سے ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک خدا تعالیٰ کا ایسے الفاظ مثل شَرُّ البَرِيَّةِ اور أُولَئِكَ الانْعَامِ فرمانا گالی نہیں بلکہ اظہارِ واقعہ کے طور پر ہے۔فاندفع الاشكال۔محدثین کی شہادت میں اُو پر لکھ چکا ہوں کہ نبیوں کا اپنے منکرین اور مکذبین کے امراض روحانی کا اظہار کرنا گالی نہیں۔بلکہ ان کا فیصلہ اور حقیقت کا بیان ہے۔میں اپنے اس بیان کی تائید کے لئے محدثین کی ایک نظیر پیش کرتا ہوں۔کسی مسلمان کے عیب کا غائبانہ ذکر کرنا غیبت ہے مگر جناب عفان کہتے ہیں :- (527)