تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 452 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 452

اس آیت ( لا تدركه الابصار) کے یہ معنی ہیں کہ آنکھیں پورے طور پر اور جملہ اطراف سے خدا کا احاطہ نہیں کر سکتیں جیسے کہ جسم کو دیکھنے سے اس کی ہر خصوصیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ویسے خدا کا ٹھیک ٹھیک احاطہ آنکھوں کی استعداد سے باہر ہے۔“ (علم الکلام صفحہ ۷۲) پھر نبراس میں لکھا ہے :- "لا نُسَلِّمُ انَّ الْإِدْرَاكَ - هُوَ الرُّؤْيَةُ مُطْلَقًا بَلْ هُوَ الرُّؤْيَةُ عَلَى وَجُهِ الْإِحَاطَةِ يُقَالُ رَأَيْتُ الْهِلَالَ وَمَا أَدْرَكْتُهُ لِلْغَيْمِ فَالْمَنْفِى هُوَ الرُّؤْيَةُ عَلَى وَجْهِ الْإِحَاطَةِ لَا الرُّؤْيَةُ المُطْلَقَةُ “ << (شرح الشرح العقائد صفحه ۲۵۸) یعنی اور اک کلی احاطہ والی رؤیت کو کہتے ہیں مطلق دیکھنے کو ادراک نہیں کہتے۔بلاشبہ آنکھیں ان معنوں سے ذاتِ باری کا ادراک نہیں کر سکتیں اسی لئے حضرت مرزا صاحب کی عبارت میں کسی قدر پردہ“ کا لفظ موجود ہے۔اس جواب کو بالفاظ دیگر یوں سمجھ سکتے ہیں کہ آیت میں احاطہ والی رویت کا انکار ہے اور حضرت مرزا صاحب کی تحریر میں رویت جزوی کا اقرار ہے۔فلا تعارض بینھما۔سوم - لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ میں آنکھوں سے مراد ظاہری آنکھیں ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان میں روحانی آنکھیں مراد ہیں۔بے شک اللہ تعالی جو ایک لطیف اور وراء الورئی ہستی ہے اس کو ظاہری محدود آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں لیکن روحانی آنکھوں سے دیدار ضروری ہے جو صاحب الہام لوگوں کو ہوتا ہے۔قرآن مجید خود ایک دوسری جگہ فرماتا ہے وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةَ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا (بنی اسرائیل رکوع ۸) جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہوگا۔اس جگہ امی سے مراد ظاہری آنکھوں سے محروم نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو اس دنیا میں بصیرت کی آنکھ سے خدا کو نہیں دیکھتا وہ مراد ہے۔گویا خدا کو دیکھنے والی آنکھیں اسی دنیا میں ملتی ہیں۔اسی لئے دوزخیوں کو کہا جائے گا (452)