تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 419 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 419

بعض نادان یہ اعتراض بار بار پیش کرتے ہیں کہ محبوبان الہی کی یہ علامت ہے کہ ہر ایک دعا ان کی سنی جاتی ہے اور جس میں یہ علامت نہیں پائی جاتی وہ محبوبانِ الہی میں سے نہیں ہے مگر افسوس کہ یہ لوگ منہ سے تو ایک بات نکال لیتے ہیں مگر اعتراض کرنے کے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ایسے جاہلانہ اعتراض خدا تعالٰی کے تمام نبیوں اور رسولوں پر وارد ہوتے ہیں۔مثلاً ہر ایک نبی کی یہ مرا تھی کہ تمام کفار ان کے زمانہ کے جو اُن کی مخالفت پر کھڑے تھے مسلمان ہو جا ئیں مگر یہ مراد ان کی پوری نہ ہوئی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرما یا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنینَ یعنی کیا تو اس غم سے اپنے تئیں ہلاک کر لے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدر جان کا ہی اور سوز وگداز سے دعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جا ئیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اس قدر غم نہ کر اور اس قدر اپنے دل کو دردوں کا نشانہ مت بنا کیونکہ یہ لوگ ایمان سے لا پرواہ ہیں اور ان کے اغراض و و و مقاصد اور ہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه (۶۶) ( ق ) ” میں کثرت قبولیت دعا کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔میں حلفا کہہ سکتا ہوں کہ میری دعا میں تیس ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔“ (ضرورۃ الامام صفحہ ۲۶) (3) " مقبولوں کی قبولیت کثرت استجابت دعا سے شناخت کی جاتی ہے یعنی ان کی اکثر دعائیں قبول ہو جاتی ہیں نہ یہ کہ سب کی سب قبول ہوتی ہیں۔پس جب تک کہ رجوع کرنے والوں کی تعداد کثرت کی مقدار تک نہ پہنچے تب تک قبولیت کا پتہ نہیں لگ سکتا اور کثرت کی پوری حقیقت اور عظمت اسوقت بخوبی ظاہر ہوتی ہے جبکہ مومن کامل مستجاب الدعوات کا اس کے غیر سے مقابلہ کیا جائے ورنہ ممکن ہے کہ ایک بد باطن (419)