تفہیماتِ ربانیّہ — Page 417
ماں کا پیارا بچہ سانپ کے پکڑنے یا آگ سے کھیلنے کے لئے روتا ہے ، ماں باوجود انتہائی پیار و محبت کے اس کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی بلکہ اس کے کھیلنے کیلئے دوسرے کھلونے دیتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بعض دعاؤں کو جو عام اوقات میں ہوتی ہیں اپنی مصلحت کے ماتحت دوسرے رنگ میں پورا کر دیتا ہے اور ظاہری صورت میں پورا نہیں کرتا۔ہماری اس تحریر میں جہاں جہاں یہ ذکر ہے کہ انبیاء کی بعض دعائیں بھی پوری ہوئی ضروری نہیں ، یا پوری نہیں ہوئیں وہاں ان کا ظاہری صورت اور مطلوبہ رنگ میں نہ پورا ہونا ہی مراد ہیں۔ورنہ بلحاظ حقیقت خدا کے پیاروں کی ہر دعا مقبول ہوتی ہے۔تَدَبَّرُ فِيْهِ فَإِنَّهُ بَحْتُ لَطِيفٌ حضرت مسیح موعود اور قبولیت دعا اس جگہ مناسب ہے کہ تفصیلی بحث سے قبل ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند تحریرات درج کریں تا ظاہر ہو کہ اس باب میں حضور کا کیا مذ ہب اور کیا دعویٰ تھا۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- وو (الف) ” مومن پر خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بڑا بھاری فضل ہوتا ہے جو اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کی درخواستیں گو کیسے ہی مشکل کاموں کے متعلق ہوں اکثر بہ پایۂ اجابت پہنچتی ہیں اور دراصل ولایت کی حقیقت یہی ہے جو ایسا قرب اور وجاہت حاصل ہو جائے جو بہ نسبت اوروں کے بہت دُعائیں قبول ہوں کیونکہ ولی خدا تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے اور خالص دوستی کی یہی نشانی ہے کہ اکثر درخواستیں اس کی قبول کی جائیں۔“ آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۴۲) (ب) " یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دُعا میں منظور ہوتی ہیں۔بلکہ بڑا معجزہ ان کا استجابت دعا ہی ہے۔جب ان کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بیقراری ہوتی ہے اور اس شدید بیقراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سُنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے۔کامل مقبولوں کے ذریعہ سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔خدا کے نشان بھی ظاہر (417)