تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 32 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 32

لَا يَجِبُ طَاعَةَ دَوْلَةٍ مِنْ هَذِهِ الدَّوَلِ لِاِتِّبَاعِهُمُ الْبَاطِلَ بَلِ الواجب قِتَالُهُمْ وَمَنْعَهُمْ عَمَّاهُمْ فِيهِ فَأَقَامَ عَلَى ذَالِكَ نَحْوَسَنَةٍ وَتَابَعَهُ هِرُغَةُ قَبِيْلَتُهُ وَسَمَّى اتَّبَاعَهُ الْمُوَحِدِينَ وَأَعْلَمَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ بِالْمَهْدِيَّ يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا وَأَنَّ مَكَانَهُ الَّذِى يَخْرُجُ مِنْهُ المَغْرِبُ الأَقْضَى فَقَامَ إِلَيْهِ عَشَرَةُ رِجَالٍ أحَدُهُمْ عَبْدُ الْمُؤْمِن فَقَالُوا لا يُوجَدُ هَذَا إِلَّا فِيْكَ فَانْتَ الْمَهْدِيُّ فَبَا يَعُوهُ عَلَى ذَالِكَ۔“ ( کامل ابن اثیر جلد ۱۰ صفحه ۲۱۷) ترجمہ۔اس علاقہ کے لوگوں میں اس کا چرچا ہوا وہ ابن تومرت کے پاس آئے اور ان کے منتخب نمائندے اس کے سامنے حاضر ہوئے۔اس نے ان کو وعظ کیا اور ایام اللہ یاد دلائے۔اسلام کی شریعت اور اس میں لوگوں کے تغیر و تبدل کا ذکر کیا۔ظلم وفساد پیدا شدہ کا حال بتایا اور کہا کہ موجودہ حکومتوں میں سے کسی کی بھی اطاعت واجب نہیں کیونکہ وہ باطل کی پیروی کررہی ہیں۔بلکہ ان سے جنگ کرنا واجب ہے اور ان کی خرابیوں کو دُور کرنا فرض۔وہ ایک سال اسی طرح ایجی ٹیشن پھیلاتا رہا۔اس کا قبیلہ ہر غہ اس کے ساتھ ہو گیا۔اس نے اپنے تابعین کو موحدین کے لقب سے ملقب کیا اور پھر ان کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی ہے کہ ایک مہدی پیدا ہوکر زمین کو عدل سے بھر دے گا۔اور اس کا جائے ظہور المغرب ہے۔اس پر اُس کے متبعین میں سے دس جن میں عبد المومن بھی تھا کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ بات تو صرف آپ میں ہی پائی جاتی ہے۔پس آپ مہدی ہیں۔لہذا انہوں نے اس کی بیعت کر لی۔انتہی۔“ اس تاریخی اقتباس سے مندرجہ ذیل امور بوضاحت ثابت ہیں۔(۱) ابن تو مرت حکومت سے ناراض تھا اور اس کا مقصد حکومت کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنا تھا۔(۲) اس نے اپنے وطن کے لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑ کا یا اور لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔جیسا کہ اوائل میں گاندھی جی کی آواز پر اکثر ہندوستانی اکٹھے ہو گئے۔(۳) اس نے ان مذہبی لوگوں کو مذہبی طور پر بر انگیختہ کیا اور عام لوگوں کے متاثر ہونے کی بڑی وجہ یہی تھی۔32