تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 337 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 337

مطابق دہریہ اور مشرک اس فطری میثاق کے گواہ نہیں ؟ کیونکہ وہ مرید نہیں یعنی اس توحید کے قائل نہیں۔اور معترض کا قول ہے ظاہر ہے کہ مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں۔الغرض معترض نے اس فقرہ کے ذریعہ حضرت اقدس پر ہی حملہ نہیں کیا بلکہ تمام صداقتوں پر حملہ کیا ہے۔ہمارے معاند مولوی ثناء اللہ امرتسری نے بھی لکھا ہے :- غلبہ روم کی خبر۔فتح بدر کی پیشگوئی وغیرہ ہمچو قسم کوئی پیشگوئی ایسی نہ ملے گی جس کے وقوعہ میں کوئی کافر بھی متر و درہا ہو۔“ ( الہامات مرز اصفحہ ۳۳) دیکھئے وہ کافر بھی ہیں اور پیش گوئی کے گواہ بھی ہیں۔ایسے لوگوں کا کفر عنا دا یا جہلا ہوا کرتا ہے۔پس حضرت اقدس کے مریدوں کا ستر ہزار ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی پیشگوئیوں کے گواہ بھی ساٹھ لاکھ نہیں ہو سکتے۔معترض کا اس بناء پر اعتراض کرنا بناءالفاسد علی الفاسد ہے۔نشانات کے گواہوں کی تعداد اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ساٹھ لاکھ گواہوں کا ہونا واقعات کی بناء پر بالکل درست ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالتفصیل اس کے متعلق اپنی کتب میں تحریر فرما چکے ہیں۔(الف) حضور ضمیمه تریاق القلوب میں تحریر فرماتے ہیں :- اس دعویٰ کی تائید میں وہ نشان جو مجھ سے صادر ہوئے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں جن کا علم میرے خاص مریدوں تک ہی محدود ہو بلکہ اکثر ان کے ایسی عام شہادتوں سے ثابت ہیں جن کی رؤیت کے گواہ ہر ایک فرقہ کے مسلمان اور ہندو اور عیسائی ہیں۔“ (صفحہ ۲۲) اس کے بعد واقعہ لیکھرام کے تصدیق کنندگان میں سے جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہیں قریباً تین سومعز ز غیر احمدی، ہندو، عیسائی اور سکھ صاحبان کے اسماء ان کے دستخطوں سے مع بیانات درج ہیں۔ملاحظہ ہو (ضمیمه تریاق القلوب صفحه ۲۴ تا ۳۰) (ب) افسوس کہ اس ملک کے لوگوں نے بڑی سنگدلی ظاہر کی ، خدا کے کھلے کھلے نشان دیکھے اور انکار کیا۔وہ نشان جو ملک میں ظاہر ہوئے جن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسان گواہ ہیں جن میں سے کسی قدر بطور نمونہ اس کتاب میں لکھے جائیں گے۔وہ (337)