تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 336 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 336

قرآن مجید اور واقعات گھلے طور پر اس کی تغلیط کر رہے ہیں۔دیکھئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوا (سورة النمل رکوع ۱ ) که انہوں نے باوجود یکہ دل میں ان نشانات کی صداقت پر یقین کر لیا مگر پھر بھی ظاہری طور پر انکار کر دیا۔بتلائیے کیا یہ لوگ حضرت موسی کے گھلے گھلے معجزات کے گواہ نہ تھے ؟ یقینا تھے! بایں ہمہ وہ مرید بھی نہ تھے۔قرآن مجید فرماتا ہے اَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَموا يَنِي إسرائيل (الشعراء رکوع ۱۱) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو بنی اسرائیل کے علماء خوب جانتے ہیں وہ اسکے گواہ ہیں۔کیا سب علماء بنی اسرائیل مرید ہو گئے تھے؟ نہیں۔مگر کیا وہ صداقت نبوی کے شاہد نہ تھے؟ یقینا تھے ! پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معجزہ شق القمر دکھایا۔کیا تمام کفار اس نشان کے گواہ نہ تھے؟ یقیناً تھے۔قرآن پاک میں ارشاد ہوا اقتربت السَّاعَةُ وَانْشَقَ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِةٌ ( القمر ركوع ١ ) ترجمہ۔قیامت قریب آگئی اور معجزہ شق القمر کا ظہور ہو گیا۔یہ لوگ اگر نشان دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے اور اسے قدیمی جادو قرار دیتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو معجزہ شق القمر کا گواہ بھی بتایا ہے اور ساتھ ہی ان کے انحراف اور اعتراض کا ذکر بھی کیا ہے۔امام ابن القیم لکھتے ہیں : لَمْ يُقِرُّوا لِمُحَمَّدٍ بِأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ مَعَ تَحَقُّقِهِمْ صِدْقُهُ وَتَيَقُنِهِمْ صِحَةَ رِسَالَتِهِ بِالْبَرَاهِينَ الَّتِي شَاهَدُوْهَا وَ سَمِعُوا بِهَا فِي مُدَّةٍ عِشْرِينَ سَنَةٍ - ترجمہ۔کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار نہ کیا حالانکہ ان پر آپ کی سچائی متحقق ہو چکی تھی اور وہ آپ کی رسالت کی صحت پر یقین رکھتے تھے۔ان براہین کی وجہ سے جو انہوں نے مشاہدہ کئے اور ان کے گواہ بن گئے۔اور وہ براہین میں برس کے عرصہ میں سنتے رہے (زاد المعاد جلد اول صفحہ ۳۸۲) پس یہ کہنا کہ مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں، ایک صریح غلط بیانی ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں ذریت آدم سے میثاق لینے کا ذکر ہے جس کا منشاء یہ ہے کہ سب لوگ توحید کے گواہ ہیں۔فرمایا وَاَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ، قَالُوا بَلَى شَهِدَنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غُفِلِينَ (الاعراف رکوع ۲۲) گویا فطرت انسانی کو ربوبیت الہی کا گواہ بنایا گیا ہے۔اب کیا معترض پٹیالوی کے مذہب کے (336