تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 332 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 332

و کتب آسمانی اس حقیقت پر متعلق ہیں کہ جو شخص ایسی باتیں اللہ کی طرف سے اللہ سے بیان کرے جوبندہ نکلی اور پوری نہ ہوں وہ ہوا اور متقی ہے۔عام طور پر عقلمند اور شائستہ لوگوں میں اس شخص کی سچی باتوں کو بھی فروغ نہیں ہو سکتا جو جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔“ (عشرہ صفحہ ۶۴) آؤ اب دیکھیں کہ حضرت مرزا صاحب کی اشد مخالفت ، آپ پر بے حد بہتان طرازی اور مذہبی وسیاسی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ کا کیا حال ہے۔ذرا جماعت احمدیہ پر نظر ڈالو معلوم ہوگا کہ ہر طبقہ کے لوگ عقلمند اور شائستہ لوگ ، اس میں شامل ہیں اور ہر آنے والا دن احمدیت کے حلقہ کو وسیع سے وسیع تر کرتا جارہا ہے۔کیا اگر حضرت مرزا صاحب فی الواقع مفتری ہوتے تو خدا تعالی ان کے ساتھ یہی سلوک کرتا اور اسی طرح ان کی باتوں کو فروغ دیتا؟ بھائیو! خدا کا فعل شہادت دیتا ہے کہ علماء اور مکہ بین خطا پر ہیں۔وہ مدعی یقینا راستباز اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اللہ تعالیٰ اس کی پشت و پناہ تھا۔اس کی حمایت و نصرت اور تائید ہر قدم پر اس کے شامل حال تھی۔اندھی دنیا نے اس کو شناخت نہ کیا۔وقت آتا ہے کہ لوگ اس کو شناخت کریں۔۲۳ سال سے زیادہ مہلت اور بار بار آسمانی نصرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر زبر دست گواہ ہے۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولي الأبصاره اس قدر یہ زندگی کیا افتراء میں کٹ گئی پھر عجب تر یہ کہ نصرت کے ہوئے جاری بحار (در شمین) ل بلحاظ حقیقت۔ورنہ تمام صادق نبیوں کے متعلق ان کے دشمن یہی دعویٰ کرتے ہیں۔اسلئے اصل فیصل نصرت الہی ہے۔پڑھے حتى آتَاهُمْ نَصْرُنَا - الآية (انعام ع۴) (ابو العطاء) (332)