تفہیماتِ ربانیّہ — Page 327
ان لوگوں نے اس شرط سے فائدہ اُٹھا کر تکذیب و استہزاء سے کنارہ کشی اختیار کی تو ضرور تھا کہ شرط کے مطابق وہ بچائے جاتے۔ہاں اگر پھر اسی شرارت کا اعادہ کرتے تو تباہ و برباد ہو جاتے اسی بناء پر تو حضرت اقدس نے نہایت پر زور الفاظ میں فرمایا :- فیصلہ تو آسان ہے۔احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے۔پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالی مقرر کرے۔اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔۔۔ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھی رہے جب تک کہ وہ گھڑی آ جائے کہ اس کو بیباک کر دیوے۔سواگر جلدی کرنا ہے تو اُٹھو اور اس کو بیباک اور مکذب بناؤ اور اس سے اشتہار ولا ؤ اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو۔“ ( انجام آتھم صفحه ۳۲ حاشیه ) پس موانع کو دُور کرنا اسی صورت میں تھا۔ورنہ ہلاکت بھی بالذات مطلوب نہ تھی بلکہ اصل مقصد ان کو انتباہ کرنا اور انابت الی اللہ پیدا کرنا تھا۔اور وہ حاصل ہو گیا۔( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۹) (1) ہم نے معترض کی منقولہ فارسی عبارت او پر درج کر دی ہے جس کا مطلب نہایت واضح ہے اور یہ عبارت انجام آتھم صفحہ ۲۲۳ سے منقول ہے جہاں حضرت نے فرمایا ہے :- در میں مقدمہ پیچ الہامی نبود که با آن شرط نبود۔چنانکه در تذکره سابقه نزد تو کا کا بیان نمودم پس یہ پیشگوئی یقیناً معیار صدق و کذب ہے اور یہ حضرت اقدس کی صداقت کا ایک نہایت درخشنده ثبوت ہے۔مگر افسوس اُن پر جو عبارتوں کو کانٹ چھانٹ کر عوام کو دھوکہ دیں۔جب معترض کی نقل کردہ عبارت سے دو سطریں قبل یہ الفاظ مذکور ہیں تو پھر بھی اس کا شرط کو حذف کرنا اس بات کا زبر دست ثبوت ہے کہ اسے یقین ہے کہ اس شرط والی صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔(۷) معترض نے اس نمبر میں خود تسلیم کر لیا ہے کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا۔“ گویا جب واپسی ہو چکے گی تو پھر نکاح ہوگا۔اور واپسی کے لئے موت شرط ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔لہذا موجودہ حالات میں نکاح کا اعتراض غلط ہے۔(327)