تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 311 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 311

کی ناگہانی موت کا باعث اس کا معاندت احمدیت میں انہماک تھا تو دنیا نے اعجاز احمدی کی قوت کا ایک اور زبر دست نمونہ دیکھا۔فیض اللہ مذکور خود بھی منشی مہتاب علی صاحب احمدی سے مباہلہ کر کے ۱۳ را پریل ۱۹۰۷ ء کو طاعون کا شکار ہو گیا۔( تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵) یادر ہے کہ قاضی ظفر الدین کے اشعار اخبار اہلحدیث ۱۱ جنوری تا ۲۸ / مارچ ۱۹۰۷ میں شائع ہوئے ہیں (الہامات مرزا صفحہ (۱۰۳) گویا یہ ڈبل نشان ہے۔قاضی ظفر الدین نے اشعار لکھنے کا ارادہ کیا تو وہ تباہ ہو گیا۔اس کے بیٹے نے ان کی اشاعت کا اہتمام کیا اور ایک احمدی سے مباہلہ کیا اور لقمہ طاعون بن گیا۔اِنَّ فِي ذَالِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔اندریں حالات قاضی ظفر الدین کا مزعومہ قصیدہ تو احمدیت کا ایک گھلا نشان ہے۔قاضی مذکور کے متعلق مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا تھا کہ : واضح ہو کہ قاضی صاحب کو مرزا صاحب نے اپنے قصیدے کے جواب کے لئے طلب فرمایا تھا۔(الہامات مرز اصفحہ ۱۰۳) پھر کیا مقررہ مدت میں قاضی صاحب نے جواب قصیدہ لکھا ؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔وہ تو اپنے اشعار کو مکمل کرنے بھی نہیں پایا تھا کہ ملک الموت نے دبوچ لیا۔پس بعض غیر احمد یوں کا اس نام نہا د قصیدہ کو پیش کر کے اعجاز احمدی کا جواب بتلانا سراسر غلط بیانی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے :- " قاضی ظفر الدین بھی ہمارے سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور جب اس نے اس سلسلہ کے برخلاف ایک عربی نظم لکھنی شروع کی تو ہنوز اسے پورا نہ کر چکا تھا اور مسودہ اس کے گھر میں تھا۔چھاپنے تک نوبت نہ پہنچی تھی کہ وہ مر گیا ایک قصیدہ میں نے عربی میں تالیف کیا تھا جس کا نام اعجاز احمدی رکھا تھا اور الہامی طور پر بتلایا گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور اگر طاقت بھی رکھتا ہوگا تو خدا کوئی روک ڈال دے گا۔پس قاضی ظفر الدین جو نہایت درجہ اپنی طینت میں ضمیر انکار اور تعصب اور خود بینی رکھتا تھا، اس نے اس قصیدہ کا جواب لکھنا شروع کیا تا خدا کے فرمودہ کی تکذیب کرے۔پس ابھی وہ لکھ ہی (311)