تفہیماتِ ربانیّہ — Page 305
مشورے سے سے قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند۔ایک تار آیا اور صبح ہوتے ہی جھٹ سے ایک آدمی آپہنچا کہ چلئے ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف کے لوگ سب کے سب گمراہ ہو جائیں گے۔خاکسار چاروناچار موضع مذکور میں پہنچا۔مباحثہ ہوا۔خیر اس مباحثہ کی روئداد تو ضمیمه شحنہ ہند مؤرخہ ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ ء میں اہالی وہ مذکور نے شائع کرادی مگر مرزا جی کو ان کے فرستادوں نے ایسا کچھ ڈرایا اور اپنی ذلت کا حال سنایا کہ مرزا جی آپے سے باہر ہو گئے اور جھٹ سے ایک رسالہ اعجاز احمدی نصف اُردو اور نصف عربی نظم لکھ کر خاکسار کے نام مبلغ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار دیا۔(رسالہ الہامات مرزا صفحه ۹۵ ایڈیشن ششم ) ناظرین کرام ! مولوی صاحب کے اقتباس کی آخری سطور کو پھر پڑھئے جن میں آپ صفائی سے تسلیم کرتے ہیں کہ جب مباحثہ ند کے بعد حضرت مرزا صاحب کے فرستادوں نے آپ کو ڈرایا اور بقول مولوی ثناء اللہ اپنی ذلت کا حال سنایا تو آپ نے جھٹ سے ایک رسالہ اعجاز احمدی نصف اُردو اور نصف عربی نظم لکھ کر خاکسار کے نام مبلغ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار دیا۔صاف ظاہر ہے کہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اعجاز احمدی کی تصنیف کی تحریک حضرت پیغمبر قادیان کو مباحثہ مد کے حالات سننے پر ہوئی اور وہ جھٹ سے تصنیف ہوکر شائع ہو گیا۔کیا اب بھی کہا جا سکتا ہے کہ رسالہ اعجاز احمدی اچھی خاصی مدت میں تیار ہوا ؟ ہر گز نہیں ! لیس ثابت ہوا کہ اعجاز احمدی کے لئے خاصی مدت میں تصنیف ہونے کا جو شبہ پیدا کیا گیا تھا سراسر باطل اور جھوٹ ہے بلکہ وہ صرف چند دن میں تصنیف ہوکر شائع ہو گئی۔اعجاز احمدی کی اندرونی شہادت اور پھر خود مولوی ثناء اللہ کی اپنی تحریر بھی اس کی مؤید ہے۔فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلال اعجاز اور تعیین مدت معترض پیٹیالوی لکھتا ہے :- لے ان لوگوں نے صاف کہا کہ سب کے سب لوگ گمراہ ہو جائیں گے مگر آپ پھر بھی شوق سے نہیں بلکہ چارونا چار گئے۔کیا یہی اسلام کا درد تھا ؟ ( ابو العطاء ) (305)