تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 297 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 297

اس کی لیاقت بھی ملیا میٹ ، ضائع اور برباد ہے۔“ (الہامات مرز اصفحہ ۹۷) ناظرین! ہر دو اقتباس آپ کے سامنے ہیں۔کیا کوئی سمجھدار انسان ان عذرات واہیہ کو پر یقہ کے برابر بھی وقعت دے سکتا ہے؟ امرتسر کے بالمقابل قادیان کی چھوٹی سی بستی ہے۔امرتسر کے کثیر التعداد مطالع پر نگاہ کرو۔علماء اور مولویوں کی کثرت کو مدنظر رکھو۔پھر انعامی رقم دس ہزار کا لحاظ کرو۔علاوہ ازیں اس مخالفت کا بھی خیال کرو جو سب اقوام اور مسلمانوں کے تمام طبقوں کو جماعت احمدیہ سے تھی۔پھر خدا را بتلاؤ کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ ایک انسان صرف ۹۰ صفحہ کی کتاب کی مثل لانے پر اپنے سلسلہ اور تمام دعاوی کو باطل ماننے کے لئے تیار ہے، اور اپنے متبعین کو علیحدہ ہو جانے کی تلقین کر رہا ہے، اس نشان پر حصر کر رہا ہے، غیرت دلا رہا ہے مگر مخالف ہمہ اسباب و تعلی اور ادعاء برق بیانی وطلاقت لسانی ساکت، خاموش، عاجز اور محض گنگ ہیں۔ان کے دماغ مفلوج ہو گئے، ہاتھ شل ہو گئے قلمیں رُک گئیں اور جوارح معطل ہو گئے۔بھلا تم ہی انصاف کرو کہ اس سے بڑھ کر اور معجزہ کیا ہوگا ؟ کیا اہلسنت والجماعت کی کتاب شرح العقائد نسفی کی شرح نبراس میں ” وجوہ الاعجاز“ پر بحث کرتے ہوئے ایک وجہ جس پرٹی معتزلی، اور شیعہ اماموں کا اتفاق بتایا گیا ہے یہ نہیں لکھی کہ :- اللهُ سُبْحَانَهُ صَرَفَ الْقَوَى وَالْعُقُوْلَ عَنْ مُعَارَضَتِهِ “ ( صفحه ۴۳۸) که قرآن مجید کے معارضہ اور مقابلہ سے اللہ تعالیٰ نے قومی واسباب اور عقول انسانیہ کو روک دیا ، یہ اس کے اعجاز کی دلیل ہے۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے لئے باوجود غربت و کسمپرسی اور مخالفت دشمناں اسباب کا مہینا ہو جانا اور آپ کے مخالفین کے لئے مہیا نہ ہونا خود اس بات پر قاطع دلیل ہے کہ قدرت حضرت مرزا صاحب کی تائید میں کام کر رہی تھی اور مشیت الہی ان کے موافق تھی۔یہ خود گھلا معجزہ ہے۔یاد رکھو اسباب کے ہوتے ہوئے بھی کوئی ذرہ مسبب الاسباب کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔طبیب موجود ہوتے ہیں، دوائیں تیار ہوتی ہیں مگر مشیت الہی اپنا کام کر جاتی ہے اور کوئی سبب مریض کو بچا نہیں سکتا۔ہاں جب اس کی مشیت ہوتی (297)