تفہیماتِ ربانیّہ — Page 278
قائم رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ صادقان را نور حق تابد مدام کا ذباں مُردند و شد ترکی تمام اعجاز لمسیح اور پٹیالوی معترض منشی محمد یعقوب صاحب لکھتے ہیں :۔مرز اصاحب نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو لکھا تھا کہ میرے دعوی کو تسلیم کرو یا مجھ سے مناظرہ کر لو اور خود ہی صورت مناظرہ یہ تجویز کی تھی کہ لاہور میں ایک عام جلسہ کے اندر قرآن شریف کی منتخبہ ۴۰ آیات کی تفسیر مرزا صاحب اور پیر صاحب دونوں کریں جس کا فیصلہ تین عالموں سے کرایا جائے جو پہلے سے حکم مقرر کر دیئے جائیں گے۔جس کی تفسیر کو اچھا کہا جائے گا وہی حق پر سمجھا جائے گا۔“ (عشرہ صفحہ ۶۶) ناظرین! اس تجویز کا جو حشر ہو ا وہ آپ فریقین کی مشتہرہ عبارتوں میں او پر مطالعہ فرما چکے ہیں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ہاں اس ضمن میں معترض پٹیالوی نے چند غلط بیانیاں کی ہیں ان کا نمبر وار جواب درج ذیل ہے :- (۱) قوله : " پیر صاحب نے اس مناظرہ کو منظور کرلیا اور ۲۵ اگست تاریخ مقرر ہوئی۔“ (عشرہ صفحہ ۶۶) اقول :- بالکل غلط۔پیر صاحب نے ہرگز صورت مجوزہ کو منظور نہیں کیا بلکہ ایک عذ رلنگ کے ذریعہ سے روگردانی کی جیسا کہ خود ان کے اشتہار کی عبارت او پر ذکر ہو چکی ہے۔پس یہ معترض پیٹیالوی کا صریح جھوٹ ہے۔(۲) قوله -: "۲۴ /اگست کو پیر صاحب لاہور پہنچ گئے اور ۲۹ اگست تک وہاں رہے مگر مرزا صاحب نے نہ آنا تھا اور نہ آئے۔(عشرہ صفحہ ۶۷) اقول :- جب پیر صاحب نے مناظرہ کی صورت کو ہی منظور نہ کیا تھا تو لا ہور آنے کا کیا ذکر ہے؟ پیر صاحب تو اپنے مریدوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنے آئے تھے۔(278)