تفہیماتِ ربانیّہ — Page 252
اس وجہ سے تھی کہ حضور اس وقت تک اس بارے میں متر ڈد تھے۔نج الكرامه صفحه ۴۱۷) اب اگر کوئی شخص اس قسم کی باتوں کو کلام متناقض“ سے تعبیر کرے گا تو وہ اہلِ دانش کی نظر میں غلطی خوردہ یا شریر ہی کہلائے گا۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جو فضیلت کا ذکر فرمایا ہے وہ ہرگز متناقض نہیں اس لئے کہ جو کی فضیلت آپ کے اپنے خیال سے تھی اور کی فضیلت کا دعویٰ خدا تعالیٰ کی طرف سے بارش کی طرح متواتر وحی کی وجہ سے تھا۔افسوس ہے کہ ہمارے مخالف اتنی سی موٹی بات سمجھنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتے سے بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کردیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بے شمار نواں اختلاف حضرت مسیح کے پرندے۔اس نمبر میں معترض پٹیالوی نے حضرت اقدس کی عبارتوں کے چند اقتباس دیئے ہیں اور بتایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے حضرت مسیح کے معجزہ خلق الطيور کی مختلف تشریحیں کی ہیں۔عمل التقرب کا نتیجہ ، روح القدس والے تالاب کی مٹی کا اثر لکڑی تھی کل یا کھلونا، اور آخی و نادان لوگ مراد لئے ہیں۔بعض ادھورے حوالے درج کرنے کے بعد معترض لکھتا ہے :- ناظرین قرآن شریف کے صاف الفاظ کا مرزا صاحب کی تاویلات فاسدہ سے مقابلہ کریں۔کیا یہ پریشان خیالیاں کسی مصلح اور پیغمبر کے دماغ سے منسوب ہو سکتی ہیں یا انہیں آسمانی تفہیمات سے کچھ بھی تعلق ہے؟“ (عشرہ صفحہ ۶۲) الجواب۔بے شک قرآن مجید میں خلق الطیور کو حضرت مسیح سے منسوب کیا گیا ہے۔مگر جیسا کہ دوسری آیات قرآنیہ سے ظاہر ہے۔اسے حقیقی معنوں پر محمول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے قُلِ اللهُ خَالِقُ كُلّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (رعد رکوع ۱ ) خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً ( فرقان ركوع ) هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ الله - الآية (فاطر رکوع ۱) (252)