تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 246 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 246

ضروری ہوتی ہے۔اگر حضرت اس کے متعلق تعریفی الفاظ فرما دیں تو اس میں کونسا اعتراض ہے۔سوم۔ڈاکٹر عبد الحکیم کے رسالہ الذکر احکیم صفحہ ۱-۲ کی متذکرہ صدر عبارت سے واضح ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وفات مسیح کی بحث وغیرہ مقامات سنایا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان مقامات کوئن کر اس کی تعریف فرمائی لیکن جو حصے قابلِ اعتراض تھے ان پر علم پانے کے بعد آپ نے اس رائے کو بدل دیا۔گویا پہلی رائے ان حصص کے متعلق ہے جو اس نے خود حضرت اقدس کو سنائے اور وہی حصے تھے جن میں بالعموم وفات مسیح وغیرہ کا ذکر تھا۔اور دوسری رائے ان مقامات کی بناء پر ہے جن پر حضور کو بعد ازاں بعض خدام کے ذریعہ مطلع کیا گیا۔اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ دُودھ میں تھوڑی یا بہت گندگی ملا دینے سے سارا دودھ گندہ ہو جاتا ہے۔پس اندریں صورت بھی اختلاف کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔لولا الحَيثِيَّات لَبَطَلَتِ الْحِكْمَةُ۔چہارم۔ہم تسلیم کئے لیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فی الواقع ڈاکٹر عبد الحکیم خاں کی تفسیر کے متعلق دو مخالف خیال ظاہر فرمائے ہیں مگر کیوں؟ صرف اسلئے کہ اس کی حالت بدل گئی تھی۔ایک مومن ہے اس کے متعلق ہمارا آج ایک خیال ہے کل وہ کافر ہو جا تا ہے تو یقینا ہمارا خیال بدل جائے گا۔و بالعکس بلعم باعور جب نیکی پر قائم تھا تو اس کے متعلق اور خیال تھا اور جب اُس نے گمراہی اختیار کی تو اور خیال ہوا۔خود قرآن پاک فرماتا ہے :- وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَهُ ابْتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَنُ فَكَانَ مِنَ الْغُويْنَ ، وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِمَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هوية : - الآية (الاعراف (۲۲) ترجمہ۔ان پر اس شخص ( بلعم بن باعور ) کی خبر پڑھ جس کو ہم نے اپنی آیات دیں۔پھر وہ ان سے پھسل گیا۔شیطان نے اس کا پیچھا کیا اور وہ گمراہ ہو گیا۔اگر ہم چاہتے تو اس کا بذریعہ آیات رفع کرتے مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اس نے اپنی نفسانیت کی پیروی کی۔“ گویا جو بلغم کل تک آیات و الہامات الہی کا مورد تھا آج موسی کے مقابلہ کے باعث راندۂ (246)