تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 226 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 226

ہوں۔( حاشیہ حقیقة الوحی صفحه ۱۶۵) گویا جب تک ان لوگوں نے خود وجہ کفر پیدا نہ کی تھی وہ کافر نہ تھے۔اور جب وجہ کفر پیدا کر لی تو کافر بن گئے۔کوئی نبی کا فر بنانے کے لئے نہیں آتا۔ہاں لوگ پہلے ہی ایمان سے خالی ہوتے ہیں۔نبی بحیثیت مشعل ہدایت ان کے عیوب کو ان پر ظاہر کر دیتا ہے اور یہ اظہار اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہوتا ہے۔اسی لئے تو حضرت اقدس نے تحریر فرمایا :- ”میری کلام میں کچھ تناقض نہیں۔میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنیوالا ہوں۔جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا۔اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۵۰) یا نہ کرے۔“ یانہ پس معترض پٹیالوی کا اعتراض غلط ہے اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں کوئی تناقض نہیں ہے۔وھو المطلوب۔مصنف نے اس جگہ یہ بھی اعتراض اُٹھایا ہے کہ قرآن مجید ، توحید، رسالت پر ایمان کے باوجود مسلمان کہلانے والے محض مرزا صاحب کو نہ ماننے سے کافر کیسے بن سکتے ہیں۔لیکن چونکہ اس بحث کا براہ راست اس فصل سے تعلق نہیں اس لئے اس کا جواب فصل یاز دہم میں دیا گیا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔تیسرا اختلاف ختم نبوت۔اس نمبر میں معترض نے لکھا ہے کہ پہلے آپ ختم نبوت کے ماتحت نبیوں کی بندش کے قائل تھے بعد میں نبوت کے اجراء کا کے اعلان کر دیا۔گویا معترض نے اس فصل کے پہلے نمبر کو ہی دُہرا دیا ہے۔الجواب۔واضح رہے کہ ختم نبوت سے جس نبوت کی بندش کا استدلال کیا گیا ہے وہ شریعت والی مستقل اور براہ راست نبوت ہے۔اور پھر جس نبوت کا اپنے لئے ادعاء فرمایا ہے وہ غیر تشریعی اور آنحضرت کے واسطہ سے متعلق ہے۔فلا اشکال فیہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے :- (226)