تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 223 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 223

_: کرنے کا حکم آگیا آپ نے اُدھر منہ کرنا شروع کر دیا۔مگر اس وقت بھی معترض پٹیالوی کی فطرت کے لوگ چیخ اُٹھے تھے مَا وَلَهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا کہ انہوں نے تبدیل قبلہ کیوں کرلیا یہ تو قابل اعتراض امر ہے؟ مگر جانتے ہو کہ رب السموات نے ان کے حق میں کیا فرمایا؟ یہی کہ سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاس یعنی یہ لوگ بے وقوف ہیں جو اس تحویلِ قبلہ کو موردطعن بنار ہے ہیں۔کیا قرآن کے ان الفاظ میں معترض پٹیالوی اور اس کے رفیقوں کے لئے تازیانہ نہیں؟ اور پڑھئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے لکھا ہے کہ " آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے لوگوں کی مشرکانہ عادت دیکھ کر قبرستان کی زیارت سے منع فرمایا ، بعد اصلاح اجازت دیدی۔اور ان کے بخل کے مٹانے کی غرض سے قربانیوں کے گوشت تین روز سے زائد ر کھنے سے منع کر دیا تھا جس کی بعد میں اجازت دیدی۔ایسا ہی شراب کے برتنوں میں کھانا پینا منع کیا تھا مگر بعد میں اُن کے استعمال کی اجازت بخشی۔“ ( تفسیر ثنائی جلد ۱ صفحه ۱۳۳ حاشیہ) گویا بسا اوقات ایسا ہوا کہ حکم دیا گیا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم کو منسوخ فرما دیا۔کیا یہ سب اختلاف بیانیاں ہیں اور بقول منشی یعقوب صاحب متضاد اور متناقض بیانات؟ الغرض ہم نے چار جوابات سے ثابت کر دیا ہے کہ مصنف عشرہ کاملہ کا اعتراض بالکل لغو اور محض غلط ہے۔ہر دو عبارتوں میں تطبیق نہایت واضح ہے بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمائی ہے ع تصنیف را مصنف نیکو کند بیاں۔دوسرا اختلاف - دوسرا اختلاف معترض نے کفر و اسلام محمد یاں“ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔یعنی پہلے حضرت مرزا صاحب نے اپنے منکرین کو کافر قرار دینے سے انکار فرمایا اور بعد میں وہ اور ان کی جماعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر کو کافر سمجھنے لگ گئے۔لہذا یہ دونوں باتیں ایک سرچشمہ سے نہیں نکل سکتیں۔الجواب ل۔کیا اسی قسم کی اختلاف بیانیوں“ پر آپ نے اتنی کن ترانیاں (223)