تفہیماتِ ربانیّہ — Page 199
إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ (القصص ركوع ۴) ترجمہ - فرعون نے اپنے درباریوں اور رؤساء سے کہا کہ میں تمہارے لئے اپنے سوا کسی دوسرے خدا کو نہیں جانتا اے ہامان اینٹیں پکا کر محل بناؤ تائیں موسیٰ کے مزعوم خدا کو جھانکوں اور میرے نزدیک تو وہ جھوٹا ہے۔“ پس فرعون کو ہستی باری تعالیٰ کا قائل قرار دینا جہالت ہے۔لہذا اول تو فرعون ذات باری کا منکر تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔" کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔“ (کشتی نوح صفحه ۱۹) دوم۔فرعون اپنی الوہیت کا مدعی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالاتِ اسلام کے کشف کے متعلق بھی لکھا ہے :- لَا نَعْنِي بِهَذِهِ الْوَاقِعَةِ كَمَا يُعْنِي فِي كُتُبِ أَصْحَابِ وَحْدَةِ الْوَجُوْدِ وَمَا نَعْنِي بِذَالِكَ مَا هُوَ مَذْهَبُ الْحُلُولِمِينَ الخَ“ (صفحہ ۵۶۶) کہ اس کشف سے ہماری مراد وہ نہیں جو وحدت الوجود والے لیا کرتے ہیں یا اہل حلول کا مذہب ہے۔یعنی اس کشف کا یہ مطلب نہیں کہ خدا مجھ میں حلول کر آیا۔بلکہ ی و فنافی اللہ کا ہی مقام ہے جو بخاری شریف میں لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نل پڑھنے والے بندے کے ہاتھ ، پاؤں، کان اور آنکھ بن جاتا ہوں۔“ گویا آپ الوہیت کے مدعی نہیں بلکہ فرماتے ہیں :۔تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی، جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے ، جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں ، نہ آسمان میں نہ زمین میں ، جو شخص اس پر 199