تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 135 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 135

بہت سے الہام فٹ بال کی طرح گول مول ہوتے تھے جن کا سر نہ پیر۔جہاں چاہو چسپاں کر لو اور جو چاہو معنی لگالو“ افسوس که معترض پٹیالوی بالکل یہود کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔حضرت شعیب کے منکرین نے کہا تھا :- وو " يَا شُعَيْبُ مَا نَفَقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ - ( هودرکوع ۸) کہ اے شعیب ! تیری باتیں بے سر و پاقصے ہیں جن کو ہم مجھ بھی نہیں سکتے۔“ نا پاک یہود نے بھی قُلُوبُنَا غُلف میں یہی طنز کی تھی۔اس وقت جو جواب ذات باری نے دیا تھا وہی جواب ہمارا ہے یعنی :- بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا (نساء رکوع ۲۲) کہ الہامات کا قصور نہیں تمہارے اعمال بد نے تمہارے دل کو سیاہ کر رکھا ہے اور اب ان میں سمجھنے کی طاقت نہیں۔الزامی جواب قرآن مجید بلاریب خدا تعالی کا معجزانہ کلام ہے اور تا قیامت مکمل شریعت ہے مگر جانتے ہو کہ تمہارا یہی اعتراض ”گول مول الہامات کا قرآن پاک پر تمہارے جیسے مکذبین انبیاء پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ان اعتراضات کو اس جگہ نقل کرنے کی گنجائش نہیں لیکن کون ہے جو اس امر کا انکار کر سکے کہ بیسیوں آیات کی تعیین میں خود مفسرین میں زمین و آسمان کا اختلاف ہے۔اگر امام رازی ایک آیت سے ابوبکر مراد لیتے ہیں تو زمخشری اسی سے حضرت علی مراد لیتے ہیں۔تفاسیر ایسے اختلافات سے بھری پڑی ہیں۔کیا اب یہ کہنا درست ہے کہ (نعوذ باللہ ) آیات قرآنی گول مول تھیں۔جہاں کسی نے چاہا چسپاں کر لیا۔ع سخن شناس نه دشمنا خطا اینجا است (۱) يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ الله لك۔وہ کیا چیز حرام تھی ؟ کوئی ذکر نہیں۔(۲) آرَءَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلی۔کون تھا؟ اس جگہ مذکور نہیں۔(۳) وَالْعَدِيَتِ ضَبْحًا فَالْمُوْرِیت قدعا۔کس کی صفات ہیں؟ مذکور نہیں۔(۴) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر۔کو نساء من مراد ہے؟ نام نہیں لکھا۔135)