تفہیماتِ ربانیّہ — Page 108
نے اسے دوسرے رنگ سے جھوٹا کر دیا اور زیادتی عمر کی ضرورت ہی نہ رہی۔کیونکہ فریق ثانی کی طرف سے وفات کا دن معین کر دیا گیا تھا۔اور جب مقابلہ ہی نہ رہا تو مطالبہ کیسا۔اذا فات الشرط فات المشروط - امر چهارم - معترض پٹیالوی لکھتا ہے کہ جب مرزا صاحب نے لکھ دیا ہے کہ اپنی عمر کے متعلق ” ہمارے پاس کوئی یادداشت نہیں۔کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کی عمر کے لکھنے کا کوئی طریق نہ تھا تو حضرت خلیفتہ اسی اول رضی اللہ عنہ کا فرمانا کہ مرزا سلطان احمد کی روایت بابت پیدائش حضرت مسیح موعود ۶ ۸۳ ابو زیادہ درست ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ " میرے پاس جو یادداشت ہے اس کے مطابق آپ کی پیدائش ۱۸۳۶ ء یا ک ۱۸۳ء میں ہوئی تھی۔متضاد بیان ہے۔(ملخصاً مین حاشیہ عشرہ صفحہ ۳۷) الجواب ان دونوں بیانات میں کوئی تناقض نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اپنی پیدائش کے زمانہ کا حال لکھا ہے اور اپنی پیدائش کے متعلق یادداشت کا انکار فرمایا ہے اور مرزا سلطان احمد صاحب نے جس یادداشت یا بیان کا ذکر کیا ہے وہ ان کی اپنی پیدائش کے متعلق ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر بالبداہت ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ مرزا سلطان احمد صاحب کی موثق روایت حسب ذیل ہے :- ”ہندو پنڈت مجھے کہتا تھا کہ میری پیدائش ۱۹۱۳ بکرمی کی ہے اور میں نے عنا ہے کہ والد صاحب کی عمر میری ولادت کے وقت کم و بیش اٹھارہ سال کی تھی۔“ المراد - (سیرت المہدی صفحه ۱۹۷) اس حساب سے حضرت اقدس کی پیدائش ۱۸۳۶ء کے لگ بھگ ثابت ہوتی ہے۔وھو امر پنجم معترض پٹیالوی حضرت مسیح موعود کی کتاب ازالہ اوہام صفحہ ۱۸۶ سے ایک عبارت نقل کر کے لکھتا ہے :- غلام احمد قادیانی سے ۱۳۰۰ کا عدد نکال کر اور اپنا ۴۰ سال کی عمر میں مبعوث ہونا ظاہر کر کے مرزا صاحب نے اپنی عمر ۶۵ سال ۴ ماه کا مزید ثبوت دیدیا۔“ (عشره صفحه ۳۸) اب۔بے شک غلام احمد قادیانی“ کے اعداد ۱۳۰۰ ہیں۔مگر کیا الہام یا کشف 108