تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 90 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 90

جس کا اپنے و بیگانے اقرار کر رہے ہیں۔ایسے استعاروں کی کیا ضرورت تھی؟ ہم اس فصل میں معترض کے ہر ایک اعتراض کو اسکے اپنے الفاظ میں نقل کر کے مفصل جوابات دے چکے ہیں۔افسوس کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو حقیقی طور پر خالق الطیور، مردوں کو زندہ کرنے والا اور دو ہزار سال سے آسمان پر خا کی جسم کے ساتھ زندہ اور بغیر کھانے پینے کے زندہ مانتے ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ مرور زمانہ سے اس میں کوئی تغیر نہیں آیا بلکہ وہ الان کما کان کا مصداق ہے اور کسی نا معلوم وقت میں نوجوان کا نو جوان آجائیگا (معاذ اللہ من ہذہ الخرافات ) افسوس کہ ان خیالات کے رکھنے والے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر شرک کا الزام لگاتے ہیں اور آپ کی تعلیمات والہامات کو اپنی بے سمجھی سے توحید کے خلاف قرار دیتے ہیں۔مصنف عشرہ کاملہ کو سارے اعتراضات کرنے کے بعد خود یہ خیال گزرا کہ جن باتوں پر میں اعتراضات جمارہا ہوں وہ تو از قبیل مجاز و استعارہ ہیں اور ان کو حقیقت قرار دے کر اعتراض کرنا سراسر حماقت ہے۔(بَلِ الْإِنْسَانِ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرة وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيرَه ) تب اُس نے ایک نیا رنگ بدلا لکھا ہے :- ”اگر ان کو استعارہ و مجاز کہو تو میں پوچھتا ہوں کہ الہامی اور کشفی طریق پر ایسے گندے استعاروں کی کونسی ضرورت پیش آئی ہوئی تھی۔(صفحہ ۳۳) گویا تسلیم کر لیا کہ ان عبارات کو استعارہ قرار دیکر شرک وغیرہ کا کوئی الزام نہیں پڑتا ہاں اُس کے نزدیک یہ استعارات گندئے ہیں ان کی کیا ضرورت تھی؟ الجواب (۱) اگر چہ ہم ہر ایک الہام کے متعلق بتلا چکے ہیں کہ وہ حقیقت روحانیہ سے لبریز ہے لیکن ان کو گندے استعارات قرار دینے والے کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیشہ سے معاندین صداقت یہی کہتے چلے آئے ہیں۔گندی فطرت والوں کو ہر طرف گند ہی نظر آتا ہے۔بھلا قرآن مجید سے پاکیزہ تر کلام کیا ہوگا مگر دیانند جیسے انسان کو وہاں بھی ناشائستہ باتیں نظر آتی ہیں۔(ستیارتھ پرکاش صفحہ ۵۸۰ طبع پنجم) تفصیل کے لئے ستیارتھ پرکاش کا چودھواں باب دیکھو۔پس جب قرآن مجید ایسی پاک کتاب میں بھی لوگوں کو گندے استعارات نظر آسکتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں نظر آنے پر کیا تعجب ہے۔در اصل الہام الہی بارش کے مشابہ ہوتا ہے جس کی شان یہ ہے ے باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روئد و در شوره بوم خس 90