تفہیماتِ ربانیّہ — Page 795
حمَنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَبَ بِايَتِهِ ، إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ( یونس رکوع ۲) کہ اس سے گون زیادہ ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرے؟ یقینا ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔(۲) وَاِنْ يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه (المومن رکوع ۲) مفتری کا جھوٹ اسی پر پڑیگا۔(۳) لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى (طه رکوع ۳) اے لوگو! اللہ تعالیٰ پر جھوٹ مت باند ھو وہ تم کو عذاب سے ہلاک کر دے گا او مفتری نا کام ہی ہوتا ہے۔“ واقعات شاہد ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نا کام نہیں ہوئے بلکہ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اس لئے آپ یقینا نچتے ہیں۔معیار سوم - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں صادقوں کی نصرت کرتا ہوں۔فرمایا انا لننظرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْأَشْهَادُه (المومن رکوع ۶ ) ہم اپنے رسولوں اور مومنوں کی اس دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی بیچ ہے سے کبھی نصرت نہیں ملتی در مولی سے گندوں کو نہ کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو نصرت الہی کی صورت کے متعلق فرمایا - إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدخُلُونَ فِي دِينِ اللہ افواجا (النصر) یعنی اس مذہب میں لوگوں کا بکثرت داخل ہونا الہی نصرت کا ثبوت ہوتا ہے۔بخاری شریف میں اسی کی تشریح میں مقبول بارگاہ ایزدی کی علامت يُوضَعُ لَهُ الْقُبُولُ في الأرضِ ( اس کو زمین میں قبولیت دی جاتی ہے ) لکھی ہے اور ہر قل والی مشہور حدیث میں اس کا فقرہ ذکرت أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَالِكَ أَمْرُ الْإِيْمَانِ حَتَّى يَتِمَّ “ (اے ابوسفیان ! تو نے بتایا ہے کہ اس نبی کے متبعین بڑھتے ہیں۔سچ ہے ایمان کا یہی حال ہوتا ہے یہاں تک کہ مکمل ہو جاوے ) بھی اسی نصرت الہی کی تفسیر ہے۔( بخاری جلد ۱ صفحہ ۵) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ نصرت پورے طور پر حاصل ہوئی اور ہورہی ہے۔اس لئے آپ کی صداقت یقینی ہے۔معیار چہارم۔نبیوں کو روحانی اور جسمانی غلبہ دیا جاتا ہے۔فرمایا كَتَبَ اللهُ لأَغْلِبَنَّ انَا ورسلي (المجادلہ رکوع ۳) اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی مقابلہ میں غالب ہؤا کریں گے۔پھر فرمایا - وَإِن جُنْدَنَا لَهُمُ الْخَلِبُونَ (الصافات رکوع ۵ ) ہمارا لشکر ہی غالب ہوگا۔ہاں روحانی غلبہ تو فی الفور حاصل ہو جاتا ہے لیکن جسمانی غلبہ تدریجا حاصل ہوتا ہے جیسا که فرما یا أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَظرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الرعد رکوع ۶ ) (795)