تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 787 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 787

آئیے ان معنوں میں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کونبیوں کی مہر مانئے ! حديث لَا نَبِيَّ بَعْدِی کا حج مفہوم اس کے لئے مندرجہ ذیل چار حوالے ملاحظہ فرمائیں :- (۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ( وفات ۵۸ ہجری) نے فرمایا :- " قُوْلُوْا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُو الا نَبِيَّ بَعْدَهُ" ( تفسیر الدر المنشور للسیوطی جلد ۵ صفحه ۲۰۴ و تکمله مجمع السجار صفحه ۸۵) اے لوگو! آنحضرت کو خاتم الانبیاء ضرور کہومگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ آئے گا۔(۲) حضرت امام محمد طاہر علیہ الرحمہ (وفات ۹۸۶ ہجری) لکھتے ہیں :- << " هذا ايضاً لا ينا فى حديث لا نبى بعدى لانه اراد لا نبى ينسخ شرعه کہ حضرت عائشہؓ کے قول سے حدیث لامی بعدی کی مخالفت نہیں ہوتی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ وہ نبی نہ ہوگا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر دے۔“ تکمله مجمع الجار صفحه ۸۵) (۳) رئیس الصوفیہ حضرت محی الدین ابن العربی ( وفات ۶۳۸ ہجری) تحریر فرماتے ہیں :- هَذَا مَعْلَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انقطعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِي أَي لا نَبِيَّ يَكُونُ عَلَى شَرْعِ يُخَالِفُ شَرْعِيَ 22 بل إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَتِي (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۷۳)۔“ ترجمہ۔یہی معنی اس حدیث کے ہیں ان الرسالة والنبوة قد انقطعت کہ اب رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی ہے میرے بعد نہ رسول ہے اور نہ نبی۔یعنی کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جو ایسی شریعت پر ہو جو میری شریعت کے خلاف ہو بلکہ جب کبھی نبی آئے گا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا۔“ (۴) جناب نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالوی (وفات ۱۳۰۷ هجری، ۱۸۸۹ عیسوی) لکھتے ہیں :- لانبی بعدی آیا ہے جس کے معنی نزدیک اہلِ علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا۔“ ( اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۶۲) (787)