تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 776 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 776

که این بارون کا قول ہے کہ ابراہیم بن عثمان (راوی حدیث زیر بحث) سے بڑھ کر کسی نے قضاء میں عدل نہیں کیا۔ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی احادیث اچھی ہیں اور وہ ابوحیہ سے بہتر راوی ہے۔“ پھر ابوحیہ کے متعلق لکھا ہے :- ،، وَثْقَهُ الدَّارِ قُطْنِي وَقَالَ النِّسَائِي ثِقَةٌ۔“ تہذیب التہذہب جلد ا صفحه ۱۱۳) کہ امام دار قطنی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی بھی اسے ثقہ کہتے ہیں۔“ اب سوال یہ رہ گیا کہ آیا اگر کسی ایک راوی کو بعض آئمہ ضعیف قراردیں جبکہ بعض دوسرے اُسے ثقہ ٹھہرائیں تو کیا ایسے ایک راوی کی وجہ سے حدیث کو غیر صحیح اور مردود ٹھہرا کر اسے بناء استدلال نہ بنایا جائے حالانکہ حدیث زیر بحث صحاح ستہ کی کتاب ابن ماجہ میں مروی ہے اور دیگر احادیث سے اس کی تقویت بھی ثابت ہے؟ اس کے جواب کے لئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند کے کلمات ذیل قابل توجہ ہیں، فرماتے ہیں :۔(الف) یہ بھی روشن ہوگا کہ روایت کا ثبوت اور اس کی قوت کچھ اسی میں منحصر نہیں کہ اس کی سند ہی اچھی ہو اگر کوئی آیت یا روایت صحیحہ اس کی مصدق ہو تو یہ تصدیق آیت وروایت کافی ہے۔“ آب حیات صفحہ ۶۴ مطبع مجتبائی مطبوعہ ۱۲۹۸ هجری) (ب) جس خبر کے مصدق عقل یا نقل ہو اس کو صادق ہی سمجھنا چاہئے اگر چہ اُس کے راوی ضعیف ہی کیوں نہ ہوں۔“ ( آب حیات صفحہ ۴۷) پس حدیث نبوی لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا سے اس لئے اعراض کرنا کہ بعض آئمہ نے اس کے ایک راوی کو ضعیف قرار دیا ہے محض نفس کا بہانہ ہے۔اہل علم اصحاب فن کا یہ طریق ہر گز نہیں۔دوم - دوسری گزارش یہ ہے کہ حدیث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کی صحت کا بہت سے فحول آئمہ حدیث نے اقرار فرمایا ہے۔حضرت امام علی القاری کے متعلق تو مودودی صاحب کے رسالہ میں بھی لکھا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو (776)