تفہیماتِ ربانیّہ — Page 769
" وَظَاهِرُ مَعْنَى الْآيَةِ مَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ أَنَّهُ تَعَالَى هُوَ الَّذِي يُمَيِّرُ بَيْنَ الْخَبِيْثِ وَالطَّيِّبِ أَخْبَرَ أَنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ أَنْتُمْ ذلِكَ لِأَنَّهُ تَعَالَى لَمْ يُطْلِعُكُمُ عَلَى مَا أَكَنَّتْهُ الْقُلُوبُ مِنَ الْإِيْمَانِ وَالنِّفَاقِ وَلَكِنَّهُ تَعَالَى يَخْتَارُ مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ 66 فَيُطْلِعُهُ عَلى ذلِكَ فَتَطَّلِعُونَ عَلَيْهِ مِنْ جِهَةِ الرَّسُولِ۔“ پھر فأمنوا بالله و رسلہ کے نیچے لکھا ہے :- " لَمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ تَعَالَى يَخْتَارُ مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَيُطْلِعُهُ عَلَى الْمَغِيْبَاتِ أَمَرَ بِالتَّصْدِيقِ بِالْمُجْتَبى - “ (البحر المحیط جلد ۳ صفحه ۱۲۶-۱۲۷) یعنی خبیث اور طیب کے امتیاز کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول منتخب فرما کر اطلاع دیا کرے گا جو مومنوں کو آگاہ کرے گا اس لئے ہر برگزیدہ مامور کی تصدیق لازمی ہے۔یہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے امتی نبیوں پر ایمان لانے کا میثاق ہے کیونکہ آنحضرت کے بعد صرف آپ کی اطاعت کرنے والے اور آپ کی شریعت کا نفاذ کرنے والے انبیاء ہی آسکتے ہیں جیسا کہ دوسری نص وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ سے بالبداہت ثابت ہے۔(10) (الف) وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَبِ مَسْطُورًا (بنی اسرائیل : ۵۸) (ب) وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولان (بنی اسرائیل : ۱۵) ترجمہ۔(الف) قیامت سے پہلے پہلے ہم ہر بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں یا سخت عذاب دینے والے ہیں۔یہ کتاب میں مقرر ہے۔" (ب) ”ہم عذاب نہیں دیا کرتے جب تک رسول مبعوث نہ کر لیں۔“ ان دونوں آیتوں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب اور ہلاکت سے پہلے بعثت رسول ضروری ہے تا منکرین یہ نہ کہہ سکیں رَبِّنَا لَوْ لَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا (769)